تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 191

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود : 15 نومبر 1935ء کریں۔ہاں اگر کسی ایسی دوا کے سوا چارہ نہ ہو تو بے شک تجویز کر دیں کیونکہ انسانی جان بہر حال قیمتی ہے۔عام طور پر آسان اور سستے نسخے تجویز کیا کریں۔آرائش کے سامانوں کے متعلق کوئی قانون تو نہیں بنایا تھا مگر یہ کہا تھا کہ عام طور پر اس سے بچنا چاہئے۔ہاں پرانی چیزوں سے عورتیں آرائش کی جو چیزیں بنا لیتی ہیں ان کی ممانعت نہیں۔تعلیمی اخراجات کے متعلق میں نے کہا تھا کہ انہیں ہم کم نہیں کر سکتے مگر طالب علموں کو چاہئے کہ کھانے اور لباس کے اخراجات میں کمی کریں۔اُستادوں کی ٹیوشن فیسوں اور کتابوں کے اخراجات کم نہیں کئے جاسکتے کیونکہ یہ بھی قوم کا سرمایہ ہے جس سے مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے مگر کھانے اور لباس میں جس قدر کی ممکن ہوا نہیں کرنی چاہئے۔شادی بیاہ کے متعلق میں نے کہا تھا کہ کوئی قواعد مرتب کرنے تو مشکل ہیں مگر اخراجات میں ضرور کمی کرنی چاہئے۔ولیمہ کی دعوت میں بھی سادگی چاہئے۔میں نے بتایا تھا کہ ڈوموں اور میراثیوں پر جو اخراجات ہوتے تھے ان کی جگہ اب ولیمہ نے لے لی ہے۔معمولی سے معمولی آدمی بھی ولیمہ کرتا ہے تو سود وسو آدمی کو بلا لیتا ہے اس سے بھی احتراز کرنا چاہیئے۔ان سب باتوں کا میں دوبارہ اعلان کرتا ہوں کیونکہ ان کے بغیر ہم قربانی کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔اس کے بعد میں یہ بتاتا ہوں کہ گزشتہ سال میں نے ساڑھے 27 ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا تھا مگر جب بجٹ تیار کیا گیا تو وہ ستر ہزار کا بن گیا کیونکہ کئی اخراجات پہلے اندازہ میں نظر انداز ہو گئے تھے۔مثلاً دفتر کے اخراجات، ہندوستان میں تبلیغ کے اخراجات، ہندوستان میں اشتہارات کی اشاعت وغیرہ۔پھر یہ بھی خیال نہیں کیا گیا تھا کہ ہمیں آدمی سکھانے پڑیں گے اور ان پر اور ان کے اُستادوں پر خرچ کرنا پڑے گا۔اس طرح بعض دوسرے اندازوں میں بھی غلطی ہوگئی تھی قرآن کریم کا ترجمہ شائع کرنے کے اخراجات بھی شامل نہیں کئے گئے تھے اس لئے ان سب کو ملا کر بجٹ ستر ہزار کا بن گیا تھا اور اب خیال یہ ہے کہ اسی ہزار خرچ ہو جائے گا۔گو اس وقت تک عملاً کم رقم خرچ ہوئی ہے مگر پچھلے سال کے بجٹ میں سے ابھی پانچ ماہ باقی بھی ہیں۔تحریک گو میں نے نومبر میں کی تھی مگر مارچ سے کام شروع کیا جا سکا تھا اور اصل کام مئی سے شروع ہوا۔پس اس وقت گو کچھ رقم محفوظ ہے مگر وہ خرچ ہو جائے گی۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے جماعت کے اندر ایک ایسی روح پیدا کر دی کہ اس نے اسی ہزار روپیہ فراہم کر دیا ورنہ سارا بجٹ رہ جاتا۔اس وقت تک جو کام ہوا ہے اس کی تفاصیل میں میں نہیں جاسکتا صرف اس قدر بتا دیتا ہوں کہ اس وقت جن شعبوں میں کام ہورہا ہے اور تمہیں چالیس آدمی 191