تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 182

خطبه جمعه فرموده 15 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول گئے ہوں اور دشمن میدان میں کھڑا رہا ہو بلکہ دونوں مواقع پر دشمن میدان چھوڑ گیا اور مسلمان کھڑے رہے۔حتی کہ حسنین کے موقع پر مسلمانوں نے ایک سارے کا سارا قبیلہ گرفتار کر لیا۔یہ نہیں کہہ سکتے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ کو کبھی بھی شکست ہوئی تھی۔پس مومن اول تو لڑتا نہیں اور اگر لڑائی کے لئے مجبور کیا جائے تو میدان سے کبھی نہیں بنتا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن صرف دو صورتوں میں پیچھے ہتا ہے: ایک تو حملہ کرنے کے بعد بڑے لشکر سے ملنے کے لئے اور دوسرے زیادہ مفید صورت میں حملہ کرنے کے لئے۔مثلاً لکیر کاٹ کر دشمن پر حملہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سوائے ان دو صورتوں کے مومن میدان سے پیچھے نہیں ہلتا۔پس اگر فرض کر لیں کہ گورنمنٹ اپنا فرض ادا نہیں کرتی اور فرض کر لیں کہ احرار آتے اور فساد کرتے ہیں تو ایسی صورت میں یا درکھو کہ مومن کی موت اس کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔لوگ کہتے ہیں احمدی 56 ہزار ہیں، میں کہتا ہوں کہ اگر یہ چھپن ہزار اپنی جانیں قربان کر دیں تو 56 ہزار زندوں سے یہ 56 ہزار مردے بہت زیادہ کام کر سکتے ہیں۔بچپن میں ہم کہانیاں پڑھا کرتے تھے کہ بعض دیوا ایسے ہوتے تھے کہ جب ان کو مارا جاتا تو ان کے خون کے ہر قطرہ سے جو زمین پر گرتا کئی اور دیو پیدا ہو جاتے تھے ، وہ تو کہانیاں تھیں مگر مومنوں کے متعلق یہ بات بالکل درست ہے کہ جب مومن کے خون کا قطرہ زمین پر گرتا ہے تو وہ ہزاروں مومن پیدا کر دیتا ہے۔پس موت کی صورت میں تمہاری قیمت زندگی سے بہت زیادہ ہے۔جان دینے میں مومن کو صرف ایک ہی شبہ ہو سکتا ہے کہ اگر مر گئے تو اعمال صالحہ سے محروم رہ جائیں گے۔مثلاً ایک شخص کی عمر چالیس سال ہے اگر ساٹھ سال وہ اور زندہ رہتا تو اس عرصہ میں وہ اور بہت سی نیکیاں کر سکتا تھا۔پس موت کے رستہ میں صرف یہی ایک نیکی کا خیال اس کے لئے روک بن سکتا ہے ورنہ اگر وہ صحیح طور پر آخرت کو مقدم کرتا ہے تو کوئی دنیوی خیال اس کے راستہ میں روک بن ہی نہیں سکتا۔یہی ایک خیال ہے کہ اتنی مدت کی نمازوں ، روزوں ، جہاد اور تبلیغ سے محروم رہ جاؤں گا۔اس شبہ کی معقولیت کو اللہ تعالیٰ نے بھی تسلیم کیا ہے اور پھر اس کا جواب بھی دیا ہے۔چنانچہ فرمایا:۔وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ احيَا وَلكِنْ لَا تَشْعُرُونَ (البقره:155) یعنی شہید کے اعمال کبھی ختم نہیں ہو سکتے وہ ہمیشہ زندہ ہے اور اس کے اعمال ہمیشہ بڑھتے رہتے 182