تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 7

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 اکتوبر 1934ء میرے دل میں اس وقت خیال گزرا کہ یہ ہمارے حسب حال ہے۔ہم کسی کے گھر پر حملہ آور نہیں ہوئے ،حکومت سے اس کی حکومت نہیں مانگی، رعایا سے اس کے اموال نہیں چھینے بلکہ اپنی مساجد ان کے حوالے کر دیں۔اپنی بیش قیمت جائیدادیں ان کو دے کر ہم میں سے بہت سے لوگ قادیان میں آگئے کہ امن سے خدا کا نام لے سکیں مگر پھر بھی ہم پر حملے کئے جاتے ہیں اور حکومت بھی ہمارے ہاتھ باندھ کر ہمیں ان کے آگے پھینکنا چاہتی ہے اور کوئی نہیں سوچتا کہ ہمارا قصور کیا ہے جو ہم پر اس قدر ظلم کئے جاتے ہیں۔گورنمنٹ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم بے شک صابر ہیں، متحمل ہیں مگر ہم بھی دل رکھتے ہیں اور ہمارے دل بھی درد کو محسوس کرتے ہیں۔اگر اس طرح بلا وجہ انہیں مجروح کیا جاتارہا تو ان دلوں سے ایک آہ نکلے گی جوزمین و آسمان کو ہلا دے گی، جس سے خدائے قہار کا عرش ہل جائے گا اور جب خدا تعالیٰ کا عرش ہلتا ہے تو اس دنیا میں نا قابل برداشت عذاب آیا کرتے ہیں۔“ ( مطبوعہ الفضل یکم نومبر 1934 ء) 7