تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 6

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 اکتوبر 1934ء وو تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ملک کے رہنے والوں پر لیکن ان کے لئے انگریزوں کی اطاعت فرض نہیں ، اہل افغانستان پر میری اطاعت فرض ہے مگر انگریزوں کی نہیں بلکہ ان کی جگہ اپنی حکومت کی اطاعت فرض ہے اسی طرح اہل امریکہ پر میری اطاعت فرض ہے مگر انگریزوں کی نہیں۔اس اطاعت میں احمدی متفرق ہیں لیکن میری اطاعت پر سب متفق ہیں۔افغان، ایرانی ، ڈچ ، شامی مصری وغیرہ اپنے اپنے ہاں کی حکومتوں کے مطیع ہیں مگر وہ مرکزی نقطہ جس پر سب متفق ہیں ، وہ میری اطاعت ہے اس میں جو تفرقہ کرتا ہے وہ فاسق ہے اور جماعت کا نمبر نہیں۔“ یہ بات جوں جوں انگلستان اور دُنیا کے دیگر ممالک میں پھیلے گی اور ضرور پھیلے گی تو ضرور حکومت کی بدنامی کا موجب ہوگی۔دُنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔لیکن دوسری طرف حکومت ہم سے یہ سلوک کرتی ہے کہ کہتی ہے تم مرزا محمود احمد، سول نافرمانی کرنے والے ہو اور جب یہ واقعات کسی عقلمند کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ تسلیم کرے گا کہ حکومت کا رویہ مسیح نہیں۔میں نے یہ خطبہ جان بوجھ کر اس ہفتہ پر رکھا تھا کہ دیکھوں حکومت اس کا ازالہ کرتی ہے یا نہیں ؟ اس میں شک نہیں کہ اس نے دل داری کی کوشش کی ہے مگر گہرے زخم ظاہری مرہم سے شفا نہیں پایا کرتے۔ہم کو فخر تھا کہ ہم نے پوری کوشش کر کے ملک میں امن قائم رکھا ہے اور ملک میں ایک ایسی داغ بیل ڈال دی ہے کہ فساد مٹ جائے مگر حکومت نے ہماری اس عمارت کو گرا دیا ہے، ہمارے نازک احساسات مجروح کئے گئے ہیں، ہمارے دل زخمی کر دیے گئے ہیں۔ہم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا کسی سے کچھ نہیں مانگا مگر حکومت اور رعایا خوامخواہ ہماری مخالف ہے اور مسیح ناصری کا قول بالکل ہمارے حسب حال ہے کہ: لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابن آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں“۔(متی 8/20) پس اے احمدی جماعت ! جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بنائے گا، تمہارا فرض ہے کہ اپنے لئے خدا کے فضل سے آپ گھر بناؤ۔اس الہام میں یہی اشارہ ہے کہ یہ زمین اور آسمان تمہیں کانٹوں کی طرح کائیں گے۔آخر ہم نے کیا قصور کیا ہے ملک کا یا حکومت کا کہ ہم سے یہ دشمنی اور عناد کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے؟ کل پہرہ دینے والوں میں سے ایک خوش الحانی سے غالب کا شعر پڑھ رہا تھا کہ: دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم، کوئی ہمیں اُٹھائے کیوں؟ 6