تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 155

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر بر موقع جلسه 26 مئی 1935ء ہے۔پس ہر احمدی جو ایک پیسہ بھی بچا سکتا ہوا اسے چاہئے کہ یہاں جمع کرائے۔یاد رکھو! کہ یہ غفلت اور ستی کا زمانہ نہیں ہے۔یہ خیال مت کرو کہ اگر آج نہیں تو کل ثواب کا موقع مل سکے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی پیشگوئی ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب تو بہ قبول نہیں کی جائے گی اور یہ مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق ہی ہے۔پس ڈرو اس دن سے کہ جب تم کہو کہ ہم مال و جان دینا چاہتے ہیں مگر جواب ملے کہ اب قبول نہیں کیا جاسکتا۔اس کے علاوہ چندہ کی تحریک تھی اس میں وعدے تو ایک لاکھ دس ہزار کے آئے ہیں مگر وصول ابھی تک باسٹھ ہزار ہوا ہے حالانکہ بجٹ ستر ہزار کا ہے ( اس وقت تک قریبا چھیاسٹھ ہزار کی آمد ہو چکی ہے۔) امید ہے کہ دوست بقیہ وعدے جلد پورے کریں گے اور اس بات کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ اگلے سال پھر جوش سے اس تحریک میں حصہ لے سکیں۔میں آئندہ نومبر میں پھر اعلان کرنے والا ہوں مگر جو آج وعدہ پور انہیں کرتا وہ کل کس طرح آگے آئے گا ؟ ایک مطالبہ قادیان میں تعلیم کے لئے بچوں کو بھجوانے کا تھا اس کے ماتحت طلبا قادیان میں آئے ہیں اور ان کی تربیت کا کام جن لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے امید ہے وہ میری ہدایات کے ماتحت اس کیلئے پوری پوری کوشش کریں گے۔قادیان میں مکان بنوانے کی بھی تحریک کی گئی تھی اس کی طرف بہت سے دوستوں نے توجہ کی ہے مگر ابھی اس کی طرف مزید توجہ کی ضرورت ہے۔اب تو احرار بھی کہتے ہیں کہ قادیان میں مکان بناؤ اور زمینیں خرید و۔اس سے ہمارے دوست اندازہ کر سکتے ہیں کہ انہیں اس امر کی طرف کس قدر توجہ کی ضرورت ہے۔ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ یہاں اس کثرت سے مکان بنائیں کہ مخالفوں کے لئے کوئی زمین ہی نہ رہنے دیں۔ایک نصیحت ترک بے کاری کے متعلق تھی اس پر بھی بہت کم عمل کیا گیا ہے اور بہت کم ہمت دکھائی گئی ہے۔جھوٹی نام نمود کی قربانی بہت مشکل ہوتی ہے۔تعلیم یافتہ بے کار یہ ہمت نہیں کرتے کہ ”الفضل“ کے پرچے بغل میں دبا کر بیچتے پھریں۔میں امید کرتا ہوں کہ نو جوان اس مرض کو دور کریں گے اور والدین بھی اپنی اولاد سے اس مرض کو دور کرانے کی کوشش کریں گے کہ یہ مرض قوم کی کام کرنے کی روح کو کچل دیتا ہے۔پھر میں نے ہاتھ سے کام کرنے کی نصیحت کی تھی اس کی طرف بھی کم توجہ کی گئی ہے۔میں نے کہا تھا کہ اگر قادیان کی جماعت کوئی ایسے کام پیدا کرے تو میں بھی دوستوں کے ساتھ ان کاموں میں شریک ہوں گا لیکن ابھی تک کوئی ایسا کام پیدا نہیں کیا گیا۔ایک تحریک یہ تھی کہ پینشن یافتہ دوست یہاں آئیں اس کے ماتحت جس قدر آدمیوں کی ضرورت 155