تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 133
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 11 جنوری 1935ء پیدائش ہوتی ہے۔پس ماں نو مہینے کے لئے اپنی زندگی بچہ کے لئے وقف کرتی ہے پھر اپنی جان کو قربانی کے بھینٹ چڑھاتی ہے جس میں کبھی تو وہ جان دے دیتی ہے اور کبھی بیچ کر آ جاتی ہے اور در حقیقت زچگی کے وقت عورت کے جسم پر جو اثرات ظاہر ہوتے ہیں اور جس قدر شدائد و مشکلات میں سے وہ گزرتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ عورت اللہ تعالیٰ کے فضل کے طور پر دوبارہ زندہ کر دی جاتی ہے ورنہ وہ حالت زندگی کی نہیں ہوتی اس لئے باوجود سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ہر سال ایک بڑی تعداد عورتوں کی ہلاک ہو جاتی ہے کبھی ماں مر جاتی ہے اور بچہ زندہ رہتا ہے، کبھی بچہ مر جاتا ہے اور ماں رہ جاتی ہے اور کبھی ماں اور بچہ دونوں مرجاتے ہیں اور اس طریق پیدائش میں ہزار ہا قربانیاں عورتوں کی طرف سے ہر سال کی جاتی ہیں۔پھر بچہ بھی ایک طرح کا غلام ہی ہوتا ہے بلکہ جتنی غلامی وہ کرے اتنا ہی شریف اور نیک سمجھا جاتا ہے مگر اس میں کوئی عیب یا ذلت کی بات نہیں کیونکہ وہ جان دے کر خریدا گیا ہے۔پس در حقیقت وہی انسان دنیا میں مفید کام کر سکتے ہیں جو تمہاری روحانی اولادہوں اور جنہیں تم نے اپنی جانیں دے کر خریدا ہوا ہو۔جن کے غم میں تم گھلے جا رہے ہو اور جن کی ہدایت کے لئے تم خدا تعالیٰ کے دروازے کے آگے گویا روحانی رنگ میں مرچکے ہو تب اس کے نتیجہ میں تمہیں جو فرزند ملیں گے وہ تمہارے روحانی فرزند ہوں گے مگر جن کو مبلغوں کے ذریعہ روپیہ دے کر تم خریدو گے وہ غلام ہوں گے اور غلام کے ذریعہ تم کسی کام کی توقع نہیں کر سکتے۔یورپ کے مشنریوں نے روپیہ کے ذریعہ کتنی تبلیغ کی مگر ایک جگہ بھی وہ آزاد نہیں بلکہ وہ بھی غلام بنے ، ان کے ملک بھی غلام بنے ، ان کے بچے بھی غلام بنے اور ان کی بیویاں بھی غلام بنیں۔افریقہ کا بیشتر حصہ عیسائی ہے مگر کیا وہ آزاد ہیں؟ وہ اخلاقی طور پر بھی غلام ہیں، وہ روحانی طور پر بھی غلام ہیں اور وہ جسمانی طور پر بھی غلام ہیں اور جب بھی ان قوموں کی آزادی کا سوال پیدا ہوتا ہے یورپین ممالک ہمیشہ یہی کہا کرتے ہیں کہ ہم نے بہت سا رو پید ان کی بہتری کے لئے صرف کیا ہے اس لئے ہم ان ملکوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔غرض روپیہ سے خریدی ہوئی چیز بجر غلامی میں اضافہ کرنے کے اور کسی کام نہیں آسکتی مگر خدا اور اس کے قائم کردہ رسول لوگوں کو آزاد کرنے کیلئے آتے ہیں انہیں غلام بنانے کیلئے نہیں آتے۔پس اگر تم دنیا میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو روپیہ کے ساتھ نہیں بلکہ لوگوں کو اپنی جان کے ساتھ خرید کر لاؤ۔جس کو روپیہ کے ساتھ خرید کر لاؤ گے وہ خود بھی ذلیل ہوگا اور تم بھی ذلیل ہو گے مگر جس کو جان دے کر خریدو گے وہ تم پر جان دے گا اور تم اس پر قربان ہو گے۔پس یہ غلط ہے کہ تم روپیہ یا مبلغین کے ذریعہ کام کر سکتے ہو۔تم اگر دنیا میں فتحیاب ہونا چاہتے ہو تو جان دے کر ہو گے اور جان دینے کے معاملہ 133