تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 127
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 11 جنوری 1935ء خدمت اسلام کے لئے جماعت کا ہر فرد اپنی زندگی وقف کر دے خطبه جمعه فرمودہ 11 جنوری 1935ء سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔جمعہ کے لحاظ سے یہ ہندوستان کیلئے میری تحریکات کے مالی حصہ کا آخری جمعہ ہے۔اس وقت تک جو وعدے جماعتوں کی طرف سے موصول ہو چکے ہیں وہ ستر ہزار کے قریب ہیں اور جور قوم آچکی ہیں وہ 23 ہزار کے قریب ہیں۔آج گیارھویں تاریخ ہے اور چار دن اور باقی ہیں جس کے بعد یہ تحریک ہندوستان کے لوگوں کے لئے ختم ہو جائے گی سوائے بنگال کے کہ بنگال کی جماعت میں سے جو بنگالی بولنے والا حصہ ہے اور در حقیقت وہی زیادہ ہے اس نے احتجاج کیا ہے کہ چونکہ ہمارے صوبہ کے ننانوے فیصدی لوگ اردو نہیں جانتے اور الفضل میں شائع ہونے والے خطبات سے ہم آگاہ نہیں ہو سکتے اس لئے ان خطبات کا بنگالی زبان میں ترجمہ کرنے پر مہینہ ڈیڑھ مہینہ لگ جائے گا اور پھر ان کے شائع کرنے اور انہیں لوگوں تک پہنچانے کے لئے بھی وقت درکار ہے اس لئے انہوں نے زیادہ مہلت طلب کی ہے جس پر میں انہیں 15 مارچ یا 15 اپریل تک ( مجھے اچھی طرح یاد نہیں ) مہلت دے چکا ہوں۔بنگال کی جماعت ایک غریب جماعت ہے اور جو تعلیم یافتہ جماعت ہے وہ میرے خطبات سے واقف ہو چکی ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں بنگال میں اس تحریک کی اشاعت سے ہمیں مالی لحاظ سے گو معتد بہ فائدہ نہیں ہوگا لیکن اپنے اخلاص کے اظہار کا انہیں ایک موقع مل جائے گا جو بذات خود ایک نہایت قیمتی چیز ہے۔بنگال کو خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ فضیلت حاصل ہے کہ پنجاب کے بعد زیادہ کثرت اور سرعت کے ساتھ بنگال میں ہی ہماری جماعت پھیلنی شروع ہوئی ہے۔شاید بنگال اور پنجاب کے لوگوں میں کوئی مناسبت ہے کیونکہ اسلام بھی پہلے پنجاب میں پھیلا اور پھر بنگال میں۔جتنے قلیل عرصہ میں بنگال کی جماعت پھیلی ہے اتنے عرصہ میں کوئی اور جماعت نہیں پھیلی۔یوں تو بہار میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی صحابی موجود ہیں اسی طرح یوپی میں مگر بنگال میں بہت بعد میں احمد بیت گئی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نے جلد جلد ترقی کی گویہ جلدی ایسی نہیں جو بنگال کی آبادی کے لحاظ سے ہو گر بہر حال دوسرے صوبوں کے 127