تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 118
اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کہ روپیہ، ڈیڑھ روپیہ صفر سے بہر حال زیادہ ہوتا ہے اور آج کل تو اس سے ایک شخص ایک مہینہ تک کھانا کھا سکتا ہے۔پس میں جماعتوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ اپنی اپنی جگہ کے بے کاروں یا ان کو جنہیں اپنے دوسرے کاموں سے فرصت مل سکتی ہے اخبارات فروخت کرنے کے کام پر لگا دیں۔غرض ہر رنگ میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔میں تمہیں ایک طرف تو یہ کہتا ہوں کہ جاؤ نکل کر تمام دنیا میں پھیل جاؤ اور دوسری طرف یہ کہتا ہوں کہ جب تمہیں مرکز سلسلہ سے آواز آئے کہ آجاؤ تو لبیک کہتے ہوئے جمع ہو جاؤ یہ آنا جسمانی طور پر بھی ہوسکتا ہے اور روحانی ، اخلاقی اور مالی طور پر بھی۔اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے: وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِمُ رَبِّ اَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتُ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنُ قَالَ بَلَى وَلكِنْ لِيَطْمَينَ قَلبِى قَالَ فَخُذْاَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعيًا ط (البقرة :260) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے کہا کہ آپ کے حکم سے میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔اب بتائیے میری جماعت کس طرح غالب آئے گی۔چنانچہ انہوں نے کہا: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتُى اے میرے رب ! ہم تو دنیا کے مقابلہ میں مردہ ہیں۔بتائیے آپ کس طرح ان مردوں کو زندہ کریں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اَوَلَمْ تُؤْمِنُ کیا تمہیں زندہ کرنے پر ایمان نہیں؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا ایمان ہے اور آپ کا وعدہ ہے مگر نظمین قلبی۔میں یہ چاہتا ہوں کہ اس وعدہ کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھوں کیونکہ اطمینان اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب چیز مل جائے۔ایمان کے معنی چیز کے ملنے پر یقین ہوتا ہے اور اطمینان چیز کے ملنے پر حاصل ہوتا ہے۔خدا تعالے نے فرمایا:- فَخُذْ ارْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ چار پرندے لو، فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ اور اپنے ساتھ سدھالو، ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْء پھر انہیں چار پہاڑوں پر رکھ دو، ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعَيًّا پھر انہیں بلا و وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۔اسی طرح یہ بتایا کہ اپنی جماعت میں اخلاص اور تقویٰ پیدا کرو اور انہیں کہو کہ دنیا میں چاروں طرف نکل جائیں مگر یہ سمجھا دو کہ جب تمہیں آواز آئے تو جمع ہو جاؤ۔118