تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 117

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1934ء کرنے کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنا ، (6) قادیان کے سکولوں میں بچوں کو تعلیم کیلئے بھیجنا اور ان کے متعلق یہ اختیار دینا کہ ان کی دینی تربیت پر زور دینے کے لئے ہم جس رنگ میں ان کو رکھنا چاہیں رکھ سکیں اور (7) قادیان میں مکان بنانے کی کوشش کرنا۔یہ سات باتیں ایسی ہیں جن کی طرف ابھی تک کم توجہ کی گئی ہے۔ان میں سے ہر ایک کے متعلق احباب کو چاہیے کہ مجھے جواب دیں۔بہت سے احباب نے توجہ کی ہے مگر جس قدر جماعت ہے اس کے مقابلہ میں توجہ کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔یہ اصل تحریکیں ہیں اور یا درکھنا چاہئے کہ میں سب کچھ مانگ رہا ہوں ہاں فی الحال یہ چند مطالبات کئے ہیں۔پس احباب کو چاہئے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں، سادہ کھانا کھائیں ،سادہ کپڑا پہنیں، دین کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو پیش کریں، کوئی احمدی بے کار نہ رہے اگر کسی کو جھاڑو دینے کا کام ملے تو وہ بھی کرلے اس میں بھی فائدہ ہے۔ہر حال کوئی نہ کئی کام کرنا چاہئے اس کے جو فوائد ہیں وہ میں اس وقت نہیں بیان کر سکتا کیونکہ وقت تھوڑا ہے مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ بے کار نہ رہے۔ماں باپ سنگدل بن کر اپنے بے کارلڑکوں سے کہہ دیں کہ ہم نے تمہیں پالا پوسا ہے اب تم جوان ہو جاؤ اور خود کما کر کھاؤ۔بے شک یہ سنگدلی ہے مگر اس پیار اور محبت سے ہزار درجہ بہتر ہے جو بے کاری میں مبتلا رکھتی ہے۔میں نے یہ بھی سوچا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے دینی کورس تیار کیا جائے اور پھر اس میں ان کا امتحان لیا جائے کوئی احمدی لڑکا یا لڑ کی ایسی نہ ہو جسے اس کورس کی تعلیم نہ ہو ہر ایک کے لئے اس کا پڑھنا لازمی ہو۔زمیندار احباب سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ سنتے چھوٹ گئے ان کی بھی باری آرہی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ زمیندار طبقہ جو نہایت شاندار قربانیاں کرتا رہا ہے اب بھی کرے گا۔پراپیگنڈہ کے لئے جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے مگر جو کچھ وہ تیار کرے اسے لوگوں کے گھروں تک پہنچانا جماعت کا کام ہے مگر جماعت کی توجہ اس طرف کم ہے اگر توجہ کی جاتی تو کئی سو الفضل اور کئی ریویو اور سن رائز کے پرچے جاری کرائے جا سکتے ہیں اور اس طرح بہت اہم کام ہو سکتا ہے فی الحال میں جماعت میں تحریک کرتا ہوں کہ الفضل کے کم از کم دوسو پرچے مفت تقسیم کئے جائیں اور پانچ پانچ سور یویو اور سن رائز کے۔اتنی تعداد جماعتوں کے نام بحصہ رسدی لگادی جائے اور احباب اپنی اپنی جگہ کوشش کریں کہ اتنے پر چوں کی قیمت مفت اشاعت کے لئے جمع ہو جائے۔میں نے کئی بار اخبارات کی ایجنسیاں قائم کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اگر احباب کوشش کریں تو اس طرح ہزاروں کی تعداد میں پرچے نکل سکتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح مہینہ میں روپیہ، ڈیڑھ روپیہ سے زائد آمد نہیں ہوسکتی مگر میں کہتا ہوں 117