تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 93
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء آٹھویں بات اس سکیم میں میرے مدنظر یہ ہے کہ مرکز کو ایسا محفوظ کیا جائے کہ وہ بیرونی حملوں سے زیادہ سے زیادہ محفوظ ہو جائے۔اس بات کو اچھی طرح سوچنا چاہئے کہ ایک سپاہی اور جرنیل میں کتنا فرق ہے مگر یہ فرق ظاہر میں نظر نہیں آتا۔مثال کے طور پر آنکھوں کو لے لو، سپاہی اور جرنیل کی آنکھ میں کیا فرق ہے سوائے اس کے کہ سپاہی کی نظر تیز ہوگی اور جرنیل بوجہ بڑھاپے کے اس قدر تیز نظر نہ رکھتا ہوگا ، اسی طرح دونوں کے جسم میں کیا فرق ہے سوائے اس کے کہ سپاہی نوجوان اور مضبوط ہونے کی وجہ سے زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے اور جرنیل اس قدر نہیں اٹھا سکتا یا سپاہی زیادہ دیر بھوک برداشت کر سکتا ہے اور جرنیل ایسا نہیں کر سکتا۔مگر باوجود اس کے جرنیل کی جان ہزاروں سپاہیوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے اور بعض دفعہ ساری کی ساری فوج اسے بچانے کیلئے تباہ ہو جاتی ہے۔نپولین کو جب انگریزوں اور جرمنوں کی متحدہ فوج کے مقابل میں آخری شکست ہوئی ہے تو اس وقت اس کی فوج کے ایک ایک سپاہی نے اسی خواہش میں جان دے دی کہ کسی طرح نپولین کی جان بچ جائے کیونکہ ہر ایک یہی سمجھتا تھا کہ اگر نپولین بچ گیا تو فرانس بھی بچ جائے گاور نہ مٹ جائے گا۔نپولین کا جو گارڈ تھا وہ چنندہ بہادروں پر مشتمل تھا اور اس کے سب سپاہی اس قدر بہادر تھے کہ یورپ میں ضرب المثل تھی کہ نپولین کا گارڈ جب حرکت میں آتا ہے تو زمین ہل جاتی ہے۔جب واٹرلو کے میدان میں جنگ کا پہلو فرانسیسیوں کے حق میں خراب نظر آنے لگا تو گارڈ آگے بڑھے اُس دن انگریز اور جرمن بھی یہ سمجھ کر لڑ رہے تھے کہ اگر آج شکست ہوگئی تو دنیا میں ہم زندہ نہ رہ سکیں گے اس لئے وہ بھی سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے اس لئے جب گارڈ نے حملہ کیا تو انگریزی فوج اس کے صدمات کو جرات سے سہ گئی اور گارڈ کا پہلا حملہ ناکام رہا تو فرانسیسیوں کیلئے خطرہ اور بھی بڑھ گیا اتنے میں گولہ بارود بھی فرانسیسیوں کا ختم ہو گیا اور گارڈ کو تلواروں اور کر چوں سے لڑنا پڑا وہ گولیاں کھا کھا کر گر رہے تھے مگر پیچھے نہ ہٹتے تھے۔لکھا ہے کہ اس وقت کسی نے انہیں کہا کہ تم بندوقیں کیوں استعمال نہیں کرتے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس گولی بارود نہیں۔اس نے کہا پھر بھاگتے کیوں نہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ بھا گنا ہمیں نپولین نے سکھایا نہیں اور اس وقت بعض فرانسیسی افسر آگے بڑھے اور نپولین کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر اسے موڑ نا چاہا اور اس سے درخواست کی کہ آپ واپس لوٹیں۔اس نے جواب دیا کہ میں کس طرح لوٹ سکتا ہوں جب میرے سپاہی جانیں دے رہے ہیں ؟ مگر انہوں نے کہا کہ کہ فرانس کی عزت آپ سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ آپ واپس لوٹیں تو بعض دفعہ بعض چیزوں کو ایسی اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ ان کے مٹنے کے بعد شان قائم نہیں رہ سکتی۔93