تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 92

خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول چھٹی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے زیادہ جدو جہد کی جائے کیونکہ ہماری فتح اسی سے ہو سکتی ہے اسی لئے دعا کرنا میں نے اپنی سکیم کا ایک جزو رکھا ہے۔اس کی غرض یہی ہے کہ ہماری تمام ترقیات اسی سے وابستہ ہیں اور جب ہمارے اندر سے غرور نکل جائے اس وقت اللہ تعالی کا فضل نازل ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ امن کی بنیاد ایسے اصول پر قائم ہو کہ انسانیت کے لحاظ سے سب برابر ہوں۔اس سکیم میں میں نے یہ بات بھی مدنظر رکھی ہے کہ امیر وغریب کا بعد دور ہو مثلاً بعض گھر ایسے ہوتے ہیں جہاں مہمان زیادہ آتے ہیں وہ چار پانچ کھانے پکاتے ہیں اور جو مہمان بلند پایہ ہوں انہیں میز پر اپنے ساتھ بلا کر کھانا کھلا لیتے ہیں اور جو ذرا کم درجہ کے ہوں انہیں کہہ دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے کمرہ میں تشریف رکھیں وہیں کھانا آپ کو پہنچ جائے گا مگر جب ایک ہی سالن پکے گا تو اس کی بھی ضرورت نہ ہوگی۔ساتویں بات اس سکیم میں میرے مدنظر یہ ہے کہ جماعت کے زیادہ سے زیادہ افراد کو تبلیغ کیلئے تیار کیا جائے۔پہلے سارے اس کے لئے تیار نہیں ہوتے اور جو ہوتے ہیں وہ ایسے رنگ میں ہوتے ہیں کہ مبلغ نہیں بن سکتے۔اول تو عام طور پر ہماری جماعت میں تبلیغ کا انحصار مبلغوں پر ہی ہوتا ہے وہ آئیں اور تقریریں کر جائیں۔ان کے علاوہ انصار اللہ ہیں مگر وہ ارد گرد جا کر تبلیغ کر آتے ہیں اور وہ بھی ہفتہ میں ایک بار! اس سے تبلیغ کی عادت پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ ہی تبلیغ کرنے کا ہنر آتا ہے کسی بات کو سیکھنے کے لئے تسلسل اور تواتر سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔میرے پاس موٹر ہے اور میں نے کئی بار کوشش کی ہے کہ اسے چلانا سیکھ لوں اور جب بھی سفر پر جاتا ہوں تو اس کی مشق شروع کرتا ہوں مگر واپس آکر چھوڑ دیتا ہوں اور پھر اگر کبھی باہر جانے کا موقع ملا تو اسے شروع کیا اور اس طرح میں چار سال میں بھی موٹر چلانا نہیں سیکھ سکا لیکن اگر چار سال کی جگہ چار دن مسلسل سیکھتا تو سیکھ لیتا۔پس اب میں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ تین ماہ کے لئے جو دوست فراغت حاصل کر سکیں وہ تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور اس طرح متواتر تین ماہ تک گھر سے دور جا کر تبلیغ کریں۔اپنے گاؤں کے ارد گرداگر ایک تبلیغی وفد بن کر چلا بھی جائے تو اگر کسی مخالف کو غصہ بھی آئے تو وہ یہ خیال کر کے چپ ہو رہے گا کہ یہ زیادہ آدمی ہیں ایسا نہ ہو ماریں اور اس طرح ان کو تبلیغ کی ٹرینگ نہ ہوگی مگر جب اپنے ماحول سے دور جا کر اور مسلسل طور پر ایک شخص کام کرے گا تو اسے مبلغ والی صحیح تربیت حاصل ہوگی۔پس اس سکیم میں یہ بھی میرے مد نظر ہے کہ تبلیغ کا دائرہ زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے اور ایسے مبلغ پیدا کئے جائیں جو بغیر معاوضہ کے تبلیغ کریں۔92