تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 83
83 زعم میں عالم کہلانے والوں کو بھی یہ پتہ لگ جائے۔ان لوگوں کو بھی پتہ لگ جائے جو مذہبی جبہ پوش ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا میں رحمتوں کی تقسیم کے لئے آئے ہیں نہ کہ امن پسند شہریوں کے امن چھینے کی تعلیم دینے کے لئے۔نہ کہ معصوموں کی جانوں سے بے رحمانہ طور پر کھیلنے کے لئے۔بہر حال اس آیت کے اس حصہ میں جس میں قرآن کریم کے حوالے کے طور پر بات ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قرآن میں تمام دنیا کے انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔اس میں کھلے کھلے نشانات بیان کئے گئے ہیں۔اس میں حق و باطل میں فرق کرنے والے امور بیان کیے گئے ہیں۔پس مومنین کا فرض ہے کہ اس روشن تعلیم اور ھدایت سے پر جامع کتاب قرآن کو جو حق و باطل میں فرق کرتی ہے اس مہینے میں جو رمضان کا مہینہ کہلاتا ہے، جو روحانیت میں ترقی کا مہینہ کہلاتا ہے، جس میں روزے رکھ کر انسان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جس میں ایک مومن اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے اس میں قرآن کریم کو اپنے سامنے رکھو کہ یہ تمہارا رہنما ہے۔اس مہینے میں اس پر غور کرتے ہوئے اپنی ہدایت کے سامان پیدا کرو۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ھدی للمتقین کہ یہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔پہلے فرمایا تمام انسانیت کے لئے ہدایت ہے۔ہدایتوں کے معیار مختلف ہیں۔متقیوں کے لئے بھی اس میں ہدایت ہے۔صرف ایک دفعہ ایمان لا کر یا تقویٰ پر قائم ہو کر ہدایات ختم نہیں ہو جاتی۔بلکہ ہدایت کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔یعنی وہ لوگ جو متقی ہونے کو دعوی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی خشیت پر ہر قسم کے خوف خشیت اور محبت کو حاوی سمجھتے ہیں۔اگر ان دعوی اکر نے والوں کا یہ دعوی سچا ہے تو پھر اس تعلیم کی تمام باریکیوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ جو غور نہیں کرتے، تقویٰ پر چلنے کی کوشش نہیں کرتے ایسے لوگوں کا رات کا جاگنا بھی صرف جاگنا ہے اور ان لوگوں کے روزے بھی صرف بھوک اور پیاس ہیں۔(سنن ابی ماجه کتاب الصیام باب ما جاء فى الغيبة وامرفت للصائم حدیث نمبر 1690)