تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 80
80 چڑھاوے ہیں، پیروں کے دروں پر جا رہے ہیں، وہ پیر جو کبھی نمازیں بھی نہیں پڑھتے تھے۔ان سے فریادیں کی جاتی ہیں، ان سے مانگا جاتا ہے۔قبروں سے مانگا جاتا ہے۔کیا یہ تمام چیزیں کبھی آنحضرت سلیم کے زمانے میں تھیں؟ یا آپ نے ان کا حکم دیا ؟ تو ان لوگوں نے تو خود اسلام میں بدعات پیدا کر لی ہیں۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دعویدار، بہاء اللہ اٹھا۔اگر اس کا دعوی نبوت مانا جائے تو اس کی سچائی اس لئے ثابت نہیں ہو سکتی کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اس کے ساتھ نہیں تھیں۔کسی بھی موقع پر ہمیں نظر نہیں آئیں۔اگر غور سے دیکھا جائے تو کوئی روشن نشان پیش نہیں کیا۔پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ شریعت اسلامی کو جو آخری شریعت ہے جس نے قیامت تک رہنا ہے، اس کو ناقص ثابت کرنے کی کوشش کی اور اس وجہ سے بے شک ایک وقت میں کافی تعداد میں اس کے ماننے والے بھی اس کے ساتھ ہو گئے۔لیکن اس کی مقبولیت، قرآن کریم کی مقبولیت اور شریعت کی مقبولیت کے مقابلے میں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔بلکہ اب تو بہاء اللہ کی شریعت ماننے والے اکا دُکا ادھر ادھر نظر آتے ہیں۔ان لوگوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔اور قرآن کریم آج بھی دنیا کے ایک طبقہ کی طرف سے بڑی سوچی سمجھی سکیم کے باوجود کہ اسے بدنام کیا جائے، استہزاء کا نشانہ بنایا جائے ، دنیا میں پھیل رہا ہے۔جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہی لاکھوں لوگ اس کی تعلیم کے نیچے آ کر اپنی ابدی نجات کے سامان پیدا کر رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو جھوٹے ہیں فلاح نہیں پا سکتے۔تو یہ ہے ان کا فلاح پانا۔دنیا وی دولت اکٹھی ہو جانا یا ایک گروہ پیدا کر لینا کامیابی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم کا اس کے مقابلہ پر لاکھوں گنا پھیلنا اور اس میں ترقی ہوتے چلے جانا، یہ اصل فلاح اور کامیابی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیاء جب اس مقصد کے لئے آتے ہیں تو پھر بڑے روشن نشانات کے ساتھ آتے ہیں۔زمین و آسمان کی تائیدات ان کے ساتھ ہوتی ہیں اور یہ لوگ ہوتے ہیں جو پھر اللہ تعالیٰ کی مدد اور