تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 72
72 پھر آپ اس صحیفہ فطرت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : " قرآن کوئی نئی تعلیم نہیں لایا بلکہ اس اندرونی شریعت کو یاد دلاتا ہے جو انسان کے اندر مختلف طاقتوں کی شکل میں رکھی ہے۔علم ہے۔ایثار ہے۔شجاعت ہے۔صبر ہے۔غضب ہے۔قناعت ہے وغیرہ۔غرض جو فطرت باطن میں رکھی تھی قرآن نے اسے یاد دلایا۔جیسے فِي كِتَابٍ مَكْنُونِ۔یعنی صحیفہ فطرت میں کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔اسی طرح اس کتاب کا نام ”ذکر“ بیان کیا تا کہ وہ پڑھی جاوے تو وہ اندرونی اور روحانی قوتوں اور اس نور قلب کو جو آسمانی ودیعت انسان کے اندر ہے یاد دلاوے۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کو بھیج کر بجائے خود ایک روحانی معجزہ دکھایا تا کہ انسان ان معارف اور حقائق اور روحانی خوارق کو معلوم کرے جن کا اسے پتہ نہ تھا۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ، صفحہ 94) قرآن کریم کو تدبر سے پڑھنا اور اس پر عمل کرنا چاہئے قرآن کریم کو تدبر سے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظلن تھے۔سوتم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو۔ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو۔کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا الْخَيْرُ كُلَّهُ فِي الْقُرْآنِ کہ