تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 71

71 بلکہ یہ فکر ر ہے کہ اس کی تعلیم اپنے اوپر لاگو کریں اور اپنے اوپر لاگو کر کے اس کے انعامات کے مستحق خود بھی ٹھہریں اور اپنی نسلوں میں کوشش کر کے اسی تعلیم اور حق تلاوت کو راسخ کرنے کی کوشش کریں۔ورنہ یا درکھیں اگر ہر احمدی نے اس اہم نکتہ کو نہ سمجھا اور صرف اسی بات پر ہم اتراتے رہیں کہ ہم قرآن کو ماننے والے ہیں تو جیسا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقتباس سے بتایا ہے کہ قرآن ایسے پڑھنے اور ماننے والوں پر لعنت کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لئے نیک اعمال کی بجا آوری اصل چیز ہے۔قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا اصل چیز ہے اور جب تک ہم اس پر قائم رہیں گے ہدایت کے راستے نہ صرف خود پاتے رہیں گے بلکہ دوسروں کو بھی دکھاتے رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن کریم کی تعلیم فطرت انسانی کے عین مطابق ہے یہ قرآن اس سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے جس میں ذرا بھی نہیں اور انسانی سرشت سے بالکل مطابقت رکھتی ہے اور درحقیقت قرآن کی خوبیوں میں سے یہ ایک بڑی خوبی ہے کہ وہ ایک کامل دائرہ کی طرح بنی آدم کی تمام قومی پر محیط ہو رہا ہے اور آیت موصوفہ میں سیدھی راہ سے وہی راہ مراد ہے“ جو آیت میں نے پڑھی تھی کہ جو راہ انسان کی فطرت سے نہایت نزدیک ہے یعنی جن کمالات کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے ان تمام کمالات کی راہ اس کو دکھلا دینا اور وہ راہیں اس کے لئے میسر اور آسان کر دینا جن کے حصول کے لئے اس کی فطرت میں استعداد رکھی گئی ہے اور لفظ اقوم سے آیت يَهْدِی لِلَّتِي هِيَ أَقْوَم میں یہی راستی مراد ہے۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 53-54)