تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 61

61 قائم کردہ حدود کو جانیں اور مجھیں اور زیادہ سے زیادہ اس کا علم حاصل کریں اور کبھی اس سے تجاوز کرنے کی کوشش نہ کریں تبھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔اس میں ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی بھی ایسی تربیت کریں کہ وہ خدا تعالیٰ کے اس کلام کو سمجھنے اور غور کرنے اور اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: " مجھے تو سخت افسوس ہوتا ہے جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان ہندوؤں کی طرح بھی احساس موت نہیں کرتے۔رسول اللہ کو دیکھو صرف ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْت نے ہی بوڑھا کر دیا۔کس قدر احساس موت ہے۔آپ کی یہ حالت کیوں ہوئی۔صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں کوئی حکم ہوا تو آنحضرت نے کہا کہ مجھے اس آیت نے بوڑھا کر دیا۔کس لئے تا کہ اُمت، جو ماننے والے ہیں وہ بھی اس سے سبق لیں۔ان کی فکر تھی آپ کو۔فرماتے ہیں کہ دور نہ رسول اللہ کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بادی کامل اور پھر قیامت تک کے لئے اور اس پر کل دنیا کے لئے مقرر فرمایا۔مگر آپ کی زندگی کے گل واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔جس طرح پر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے اور قانون قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طرح پر رسول اللہ کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے جو گو یا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر ہے۔( تفسیر حضرت مسیح موعود ( سورة هودزیر آیت 113 ) جلد دوم صفحه 704) اس کی مزید وضاحت بھی آپ نے فرمائی ہے۔فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ نے لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا کہ مجھے سورۃ ھود نے بوڑھا