تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 60

60 ہے اور گھر والے باتوں میں مشغول ہوتے ہیں۔خاموشی اختیار کرنی چاہئے۔یا تو خاموشی سے تلاوت سنیں یا اگر باتیں اتنی ضروری ہیں کہ کرنی چاہئیں، اس کے کئے بغیر گزارا نہیں ہے تو پھر آواز بند کر دیں۔یہ حکم تو غیروں کے حوالے سے بھی ہے کہ اگر خاموشی سے اس کلام کو سنیں تو انہیں بھی سمجھ آئے کہ یہ کیسا زبردست کلام ہے۔اور اللہ تعالیٰ پھر اس وجہ سے ان پر رحم فرماتے ہوئے ان کی ہدایت اور راہنمائی کے سامان بھی مہیا فرما دے گا۔پس ہمیں خود اس بات کا بہت زیادہ احساس ہونا چاہئے کہ اللہ کے کلام کو خاموشی سے سنیں اور سمجھیں اور زیادہ سے زیادہ اللہ کا رحم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔قرآن کریم کی تلاوت کا حصول در اصل احکام الہی پر عمل اور رضائے الہی ہے پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْاء إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرَ (هود: 113) پس جیسے تجھے حکم دیا جاتا ہے تو اس پر مضبوطی سے قائم ہو جا اور وہ بھی قائم ہو جائیں جنہوں نے تیرے ساتھ تو بہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو یقینا وہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔یہ سورۃ ھود کی آیت ہے۔تو یہ حکم صرف آنحضرت ﷺ کے لئے نہیں تھا۔ویسے تو ہر حکم جو آپ پر اترا وہ اُمت کے لئے ہے۔آپ کے ماننے والوں کے لئے ہے۔لیکن یہاں خاص طور پر مومنوں کو اور تو بہ کرنے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ تمام احکامات پر مضبوطی سے عمل کرو اور کرواؤ۔اور ایک بات یا درکھو کہ صرف عبادات پر ہی انحصار نہ ہو بلکہ اصل چیز جو اس کا مغز ہے اس کو تلاش کرو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول اور یہ حکم آپ کو دے کر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے تو بہ کی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی