تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 34
34 قرآن کریم پڑھنے والوں کا اعلیٰ مقام یعنی قرآن کریم کو پڑھو بھی اس کی تعلیم کو پھیلا ؤ بھی اور اسپر عمل بھی کرو۔دوسروں کو بھی بتاؤ۔پھر آپ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس کا حافظ ہے وہ ایسے لکھنے والوں کے ساتھ ہوگا جو بہت معزز اور بڑے نیک ہیں۔اور وہ شخص جو قرآن کریم کو پڑھتا ہے اور اس کی تعلیمات پر شدت سے کاربند ہوتا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہوگا۔( بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ عبس۔حدیث نمبر 4937) تو زیادہ اجر قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی ہے اور عمل اسی وقت آئے گا جب اس کے مفہوم کو سمجھ سکیں گے۔اور آپ اس کی بار بار تلقین اس لئے فرماتے تھے کہ قرآن کریم پڑھو اور سمجھو کہ قرآن کریم کو گھروں میں صرف سجاوٹ کا سامان نہ بنا کے رکھویا صرف یہی نہیں کہ پڑھ لیا اور عمل نہ کیا بلکہ عمل سے ہی درجات بلند ہوتے ہیں۔پھر ایک اور ترغیب دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ اونچی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے لوگوں کے سامنے خیرات کرنے والا اور آہستہ آواز میں قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے چپکے سے خیرات دینے والا۔( سنن ابی داؤد کتاب التطوع باب في رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل) پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی یا پی ایم نے فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا تو قیامت کے روز اس کے ماں باپ کو دو تاج پہنائے جائیں گے جن کی روشنی سورج کی چمک سے بھی زیادہ ہوگی، جو ان کے دنیا کے گھروں میں ہوتی تھی۔پھر جب اس کے والدین کا یہ درجہ ہے تو خیال کرو کہ اس شخص کا کیا درجہ ہو گا جس نے قرآن پر عمل کیا۔(سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب ثواب قراءة القرآن) دیکھیں آپ کو ہر وقت یہ گن تھی کہ اس کتاب کو امت ہمیشہ پڑھتی رہے، اس پر عمل