تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 33

33 گواہی کی وجہ سے جو ظاہر ہے ایک سچی گواہی ہونی ہے، میری امت کے کسی شخص کو سزا نہ ملے۔آپ کو اس گواہی پہ فخر نہیں تھا کہ مجھے تو بڑا مقام ملا ہے۔بلکہ فکر تھی۔اور اس فکر کی وجہ سے آپ کو یہ فکر بھی ہوتی تھی کہ امت میں قرآن کریم پڑھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے پیدا ہوں جس کے لئے آپ ہمیشہ تلقین فرماتے رہے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔آپ علیہ نے فرمایا کہ اے قرآن کے ماننے والو! قرآن کو تکیہ نہ بناؤ اور رات دن کے اوقات میں اس کی ٹھیک ٹھیک تلاوت کرو اور اس کے پڑھنے پڑھانے کو رواج دو۔اور اس کے الفاظ کو صحیح طریق سے پڑھو اور جو کچھ قرآن میں بیان ہوا ہے ہدایت حاصل کرنے کی غرض سے اس پر غور و فکر کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔اس کی وجہ سے کسی دنیاوی فائدے کی خواہش نہ کرنا۔بلکہ خدا کی خوشنودی کے لئے اس کو پڑھنا (مشکوۃ المصابیح ) یعنی صرف اس کو زبانی سہارا نہ بناؤ، قرآن کریم رکھا ہوا ہے اور پڑھ رہے ہیں۔بلکہ اس کو پڑھو اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو اس کے الفاظ و معانی پر غور کرو اور پھر اس کا پڑھنا خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہو نہ کہ ذاتی فائدے اٹھانے کے لئے جس طرح آج کل بعض لوگ کرتے ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبیدہ املیکی رضی الہ عنہ جو صحابہ میں سے ہیں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیا کی تم نے فرمایا اے اہل قرآن! قرآن پڑھے بغیر نہ سویا کرو۔اور اس کی تلاوت رات کو اور دن کے وقت اس انداز میں کرو جیسے اس کی تلاوت کرنے کا حق ہے۔اور اس کو پھیلا ؤ اور اس کو خوش الحانی سے پڑھا کرو اور اس کے مضامین پر غور کیا کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔( مشکوۃ المصابیح، کتاب فضائل القرآن الباب الاول الفصل الثالث حدیث نمبر (2210)