تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 100
100 الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَاراً} (بنی اسرائیل :83) اور ہم قرآن میں سے وہ نازل کرتے ہیں جو شفا ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور وہ ظالموں کو گھاٹے کے سوا اور کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔“ الخبر افضل برنیشنل 11 تا 17 نومبر 2005 پکوان مشعل را جلد پنجم حصہ سوم صفحہ 504تا506 ایڈیشن 2007 انڈیا) قرآن کریم کا ترجمہ سیکھیں حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا۔پھر قرآن شریف جب آپ پڑھیں پندرہ سولہ سال کی عمر کے بچے ہیں بلکہ چودہ سال کی عمر میں بھی۔اب یہ بڑی عمر کے بچے ہیں، Mature ہو گئے ہیں ،سوچیں ان کی بڑی Mature ہونی چاہئیں اس عمر میں آکے آپ لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں، اپنے Future کے بارے میں بھی سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔تو اس میں خاص طور پر یاد رکھیں کہ قرآن شریف جب آپ پڑھ رہے ہیں تو اس کا ترجمہ سیکھنے کی کوشش کریں۔کیوں کہ یہ بھی ایک حدیث ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن شریف جو ہے اس کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھ میں۔یہی مطلب ہے کہ اگر تم لوگ اس کو پڑھو اور اس پر عمل کرو، اس کو سمجھو تو تم نیکیاں کرنے کی کوشش کرو گے اور جب تم نیکیاں کرو گے اللہ تعالیٰ تک تم پہنچ سکو گے۔دعائیں کرنے کا تمہیں موقعہ ملے گا۔نمازیں پڑھنے کا تمہیں مزہ آئے گا اور پھر اللہ تعالیٰ کے جو حکم ہیں ان کو سمجھنے کی توفیق ملے گی۔تو یہ جس طرح میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ صرف طوطے کی طرح یاد کرنا کہ زبانی یاد کر لیا اور بس کافی ہو گیا۔جو سیکھنا ہے اس پر علم کرنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔اور اسی طرح آپ لوگ جو پڑھائی کرتے ہیں اس میں بھی دنیا وی دوسری تعلیم جو سکول کی تعلیم ہے، اس میں بھی یہ چیز یا درکھیں کہ جو وہاں آپ سیکھ رہے ہیں اس کو دین کی