تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 99
99 بھی ان لوگوں میں سے نہ بنیں جن کے بارے میں خود قرآن کریم میں ذکر ہے۔فرمایا کہ {وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ اِنَ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا} (الفرقان : ۱۳) اور رسول کہے گا اے میرے رب یقینا میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔یہ زمانہ اب وہی ہے۔جب بہت ساری دلچسپیوں کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔پڑھنے والی کتابیں بھی اور بہت سی آچکی ہیں اور بہت ساری دلچسپیوں کے سامان پیدا ہو گئے ہیں انٹرنیٹ وغیرہ ہیں جن پر ساری ساری رات یا سارا سارا دن بیٹھے رہتے ہیں۔اس طرح ہے کہ نشے کی حالت ہے اور اس طرح کی اور بھی دلچسپیاں ہیں۔خیالات اور نظریات اور فلسفے بہت سے پیدا ہو چکے ہیں۔جو انسان کو مذہب سے دور لے جانے ولاے ہیں اور مسلمان بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔دنیا میں سارا معاشرہ ہی ایک ہو چکا ہے۔قرآنی تعلیم کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کی تعلیمات پر ہر جگہ عمل ہو رہا ہے۔یہی زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے۔اسی زمانے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قرآن کو متروک چھوڑ دیا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی اس متروک شد تعلیم کو دنیا میں دوبارہ رائج کرنا ہے اور آپ نے یہ رائج کرنا تھا بھی اور آپ نے یہ رائج کر کے دکھایا بھی ہے۔آج ہم احمدیوں کی ذمہ داری ہے، ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآنی تعلیم پر نہ صرف عمل کرنے والا ہو، اپنے پر لاگو کرنے والا ہو بلکہ آگے بھی پھیلائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فقرہ ہمارے ذہن میں ہونا چاہئے کہ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ہم ہمیشہ قرآن کے ہر حکم اور ہر لفظ کو عزت دینے والے ہوں۔اور عزت اس وقت ہوگی جب ہم اس پر عمل کر رہے ہوں گے۔اور جب ہم اس طرح کر رہے ہوں گے تو قرآن کریم ہمیں ہر پریشانی سے نجات دلانے والا اور ہمارے لئے رحمت کی چھتری ہوگا۔جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ { وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءَ وَرَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ