خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 73 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 73

73 نہ کرلے اس سے پیچھے نہیں ہوتا۔پس اسلام کی ترقی کے لئے اپنے دل میں تینوں باتوں کا عہد کرلو۔اول یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پرواہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔دوسرے یہ کہ آپ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے اور اس کام کے لئے اپنی جان اور اپنے مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کو تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے اور اس وقت تک بس نہیں کریں گے جب تک کہ مسلمان اس کچل دینے والی غلامی سے بکلی آزاد نہ ہو جائیں اور جب آپ یہ عہد کر لیں تو پھر ساتھ ہی اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے لگیں۔یہی وہ سچا اور حقیقی بدلہ ہے ان گالیوں کا جو اس وقت بعض ہند و مصنفین کی طرف سے رسول کریم ﷺ فداہ نفسی و اهلی کو دی جاتی ہیں اور یہی وہ سچا اور حقیقی علاج ہے جس سے بغیر فساد اور بدامنی پیدا کرنے کے مسلمان خود طاقت پکڑ سکتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں ورنہ اس وقت تو وہ نہ اپنے کام کے ہیں نہ دوسروں کے کام کے اور وہ قوم ہے بھی کس کام کی جو اپنے سب سے پیارے رسول کی عزت کی حفاظت کے لئے حقیقی قربانی نہیں کر سکتی ؟ کیا کوئی دردمند دل ہے جو اس آواز پر لبیک کہہ کر اپنے علاقہ کی درستی کی طرف توجہ کرے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو“۔(انوار العلوم جلد 9 ص 555) رنگیلا رسول کے مقدمہ میں راجپال کو زیر دفعہ 153۔الف تعزیرات ہند چھ ماہ قید با مشقت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ قید مز ید کی سزا ہوئی تھی۔راجپال نے پنجاب ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور اس کے بیج کنور دلیپ سنگھ نے اسے بری کر دیا۔فیصلہ کے خلاف اخبار مسلم آؤٹ لگ (Muslim Outlook) کے احمدی ایڈیٹر سید دلاور شاہ صاحب بخاری نے 14 جون 1927ء کو مستعفی ہو جاؤ“ کے عنوان سے ایک ادار یہ لکھا جس پر پنجاب ہائی کورٹ کی طرف سے اخبار کے ایڈیٹر اور اس کے مالک و طابع ( مولوی نورالحق صاحب ) کے نام توہین عدالت کے جرم میں ہائی کورٹ کی طرف سے نوٹس پہنچ گیا۔سید دلاور شاہ صاحب بخاری ہائی کورٹ کا نوٹس لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ مضمون پر اظہار افسوس کر دینا چاہئے مگر حضور نے مشورہ دیا کہ: آپ اپنے جواب میں لکھوا دیں کہ اگر ہائی کورٹ کے جوں کے نزدیک کنور دلیپ صاحب کی