خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 72
72 سیرت النبی ﷺ کے متعلق تحریکات تحفظ ناموس رسالت کی تحریک متحدہ ہندوستان میں بعض بد زبان اور دریدہ دہن آریہ مصنف آنحضرت علی کی ذات بابرکات پر خاص طور پر حملے کر رہے تھے۔چنانچہ ایک آریہ سماجی راجپال نے ”رنگیلا رسول“ نامی کتاب شائع کی اور اس میں مقدس بانی اسلام علی کی نسبت نہایت درجہ دلخراش اور اشتعال انگیز باتیں لکھیں جس پر حکومت کی طرف سے مقدمہ چلا۔یہ مقدمہ ابھی زیر سماعت تھا کہ امرتسر کے ہندو رسالہ ”ورتمان نے مئی 1927ء کی اشاعت میں ایک بے حد دل زار مضمون شائع کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ اشتعال انگیز مضمون دیکھتے ہی ایک پوسٹر شائع فرمایا جس کا عنوان تھا۔رسول کریم کی محبت کا دعوی کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے۔اس پوسٹر میں حضور نے نہایت پر شوکت اور پر جلال انداز میں تحریر فرمایا:۔”ہماری جنگل کے درندوں اور اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ان لوگوں سے ہر گز صلح نہیں ہو سکتی جو رسول کریم علیہ کو گالیاں دینے والے ہیں۔بیشک وہ قانون کی پناہ میں جو کچھ چاہیں کرلیں اور پنجاب ہائی کورٹ کے تازہ فیصلہ کی آڑ میں جس قدر چاہیں ہمارے رسول کریم عملے کو گالیاں دے لیں۔لیکن وہ یاد رکھیں کہ گورنمنٹ کے قانون سے بالا اور قانون بھی ہے اور وہ خدا کا بنایا ہوا قانون فطرت ہے وہ اپنی طاقت کی بناء پر گورنمنٹ کے قانون کی زد سے بچ سکتے ہیں لیکن قانون قدرت کی زد سے نہیں بچ سکتے اور قانون قدرت کا یہ اٹل اصل پورا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس کی ذات سے ہمیں محبت ہوتی ہے اس کو برا بھلا کہنے کے بعد کوئی شخص ہم سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا۔ا پھر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔”اے بھائیو! میں دردمند دل سے پھر آپ کو کہتا ہوں کہ بہادر وہ نہیں جو لڑ پڑتا ہے وہ بزدل ہے کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب گیا ہے بہادر وہ ہے جو ایک مستقل ارادہ کر لیتا ہے اور جب تک اس کو پورا