خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 590
590 صفائی کا خیال رکھنا چاہئے۔لمبا عرصہ اگر صفائی نہ کریں تو قالین میں بو آنے لگ جاتی ہے ہمٹی چلی جاتی ہے۔خاص طور پر جمعے کے دن تو بہر حال صفائی ہونی چاہئے اور پھر حدیثوں میں آیا ہے کہ دھونی وغیرہ دے کر ہوا کو بھی صاف رکھنا چاہئے اس کا بھی باقاعدہ انتظام ہونا چاہئے۔لیکن مساجد میں خوشبو کے لئے بعض لوگ اگر بتیاں جلا لیتے ہیں۔بعض دفعہ اس کا نقصان بھی ہو جاتا ہے، پاکستان میں ایک مسجد میں اگر یتی کسی نے لگا دی اور آہستہ آہستہ الماری کو آگ لگ گئی نقصان بھی ہوا۔ایک تو یہ احتیاط ہونی چاہئے کہ جب موجود ہوں تب ہی لگے۔دوسرے بعض اگر بتیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں اتنی تیز خوشبو ہوتی ہے کہ دوسروں کے لئے بجائے آرام کے تکلیف کا باعث بن جاتی ہیں۔اس سے اکثر کو سر درد شروع ہو جاتی ہے۔تو ایسی چیز لگانی چاہئے یا دھونی دینی چاہئے جو ذرا ہلکی ہو۔خدام الاحمدیہ کی ذمہ داری: الفضل 20 جولائی 2004 ء ) حضور نے 25 دسمبر 2006ء کو مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ جرمنی کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا :۔جماعتی بلڈنگز میں خدام الاحمدیہ کو پھول پھلواڑیاں لگانے کا کام سنبھالنا چاہئے۔جیسا کہ میرے توجہ دلانے پر خدام الاحمدیہ یو۔کے نے اسلام آباد میں گھاس کی کٹنگ اور پھول پودوں کا انتظام سنبھالا ہوا الفضل 6 جنوری 2007ء) ہے۔اطفال کے نام پیغام شجر کاری سے متعلق ربوہ کے بچوں کے نام ایک پیغام میں 7 جون 2003ء کوحضور نے فرمایا:۔حضرت مصلح موعودؓ کی خواہش تھی کہ میں نے رویا میں دیکھا تھا۔ربوہ کی زمین کے متعلق کہ باقی جگہ تو یہی لگتی ہے لیکن یہاں سبزہ نہیں ہے، Greenery نہیں ہے وہ امید ہے انشاء اللہ ہو جائے گی۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بارے میں ربوہ کے لوگ بہت کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر اطفال اور خدام نے بہت کوشش کی ہے انہوں نے وقار عمل کر کے، ربوہ کو آباد کرنے کی کوشش کی ہے۔لوگ آکے حیران ہوتے ہیں۔آپ جیسی چھوٹی عمر کے بچوں نے وقار عمل کر کے وہاں پودے لگائے ہیں اور ان کو سنبھالا ہے۔تو اب میری بچوں سے یہی