خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 569
569 میں پیدا کرنا ہے وہ حاصل ہوگا۔انشاءاللہ۔اگر مائیں اور ذیلی تنظیمیں مل کر کوشش کریں اور صحیح طریق پر کوشش ہو تو اس تعداد میں (جو موجودہ تعداد ہے ) آسانی سے دنیا میں 6لاکھ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔بغیر کسی دقت کے اور یہ تعداد آسانی سے 10 لاکھ تک پہنچائی جاسکتی ہے کیونکہ موجودہ تعداد 4 لاکھ کے (الفضل 26 اپریل 2005ء) ریب ہے۔دفتر اطفال میں اضافہ کرنے کی تحریک حضرت خلیفہ لمسیح الثالث نے وقف جدید دفتر اطفال قائم فرمایا تھا اوراحمدی بچوں کو اس میں د لینے کی تحریک فرمائی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ نے اس حوالہ سے خطبہ جمعہ 12 جنوری 2007ء میں فرمایا:۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ ایمانی حالت کی بہتری کے لئے بھی قربانی کی ضرورت ہے۔تو اپنے بچوں میں بھی اس قربانی کی عادت ڈالیں تا کہ جب وہ بڑے ہوں تو ان کی خواہشات کی جو ترجیحات ہیں ان میں اللہ کی خاطر مالی قربانی سب سے اول نمبر پر ہو۔اس سے ایک تو شاملین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا اور جو عفو کے معیار ہیں وہ ترجیحات بدل جانے سے بدل جائیں گے۔جولوگ بچوں کو بھی جب جیب خرچ دیتے ہیں تو ان کو ان میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں۔عیدی وغیرہ میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں، ان مغربی ممالک میں میں نے اندازہ لگایا ہے جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ بازار سے کھانا برگر وغیرہ جو ہیں اور بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں اور جو مزے کے لئے کھائے جاتے ہیں، ضرورت نہیں ہے۔اگر مہینے میں صرف دو دفعہ یہ بچا کر وقف جدید کے بچوں کے چندے میں دیں تو اسی سے وصولی میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔تو وقف جدید کو جس طرح حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے پاکستان میں بچوں کے سپرد کیا تھا۔میں بھی شاید پہلے کہہ چکا ہوں نہیں تو اب یہ اعلان کرتا ہوں کہ باہر کی دنیا بھی اپنے بچوں کے سپر دو قف جدید کی تحریک کرے اور اس کی ان کو عادت ڈالے تو بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ بہت بڑے خرچ پورے کرلے گی اور یہ کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔جب آپ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں سے بچت کرنے کی ان کو عادت ڈالیں گے اسی طرح بڑے بھی کریں اور اگر یہ ہو جائے تو ہندوستان کے