خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 532
532 تعمیر مساجد کے متعلق تحریکات تعمیر مساجد کی طرف حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خصوصی توجہ دی ہے۔کئی ممالک میں مراکز نماز تو تھے لیکن باقاعدہ مسجد نہیں تھی۔یا ایک آدھ مسجد بنے ہوئے طویل عرصہ گزر چکا تھا۔حضور نے ان سب مقامات پر مساجد کی تعمیر اور ان میں اضافہ کی تحریکات فرمائیں۔تعمیر مساجد کا مستقل نظام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تعمیر مساجد کے لئے چندہ کا ایک مستقل نظام جاری کیا تھا اس کی یاد دہانی کراتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے فرمایا۔”ہمارے بچپن میں تحریک جدید میں ایک فنڈ مساجد بیرون کی بھی ہوا کرتی تھی۔ہر سال جب بچے پاس ہوتے تھے تو عموماً اس خوشی کے موقع پر بچوں کو بڑوں کی طرف سے کوئی رقم ملتی تھی۔وہ اس میں سے اس مد میں ضرور چندہ دیتے تھے یا اپنی جیب خرچ سے دیتے تھے۔یہ مداب بھی شاید ہو۔حالات کی وجہ سے پاکستان میں تو میں اس پر زور نہیں دیتا لیکن باہر پتہ نہیں، ہے کہ نہیں اور اسے اب بیرون کہنے کی تو ضرورت بھی نہیں۔عموماً مساجد کی ایک مد ہونی چاہئے اس میں جب بچے پاس ہو جائیں تو اس وقت یا کسی اور خوشی کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر میں چندہ دیا کریں اور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے کونے کونے میں بے شمار احمدی بیچے امتحانوں میں پاس ہوتے ہیں۔اگر ہر سال ذیلی نظیمیں اس طرف توجہ دیں، ان کو کہیں اور جماعتی نظام بھی کہے کہ اس موقع پر وہ اس مد میں اپنے پاس ہونے کی خوشی میں چندہ دیا کریں تو جہاں وہ اللہ تعالیٰ کا گھر بنانے کی خاطر مالی قربانی کی عادت ڈال رہے ہوں گے وہاں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل سمیٹتے ہوئے اپنا مستقبل بھی سنوار رہے ہوں گے۔والدین بھی اس بارے میں اپنے بچوں کی تربیت کریں اور انہیں ترغیب دلائیں تو اللہ تعالیٰ ان والدین کو بھی خاص طور پر اس ماحول میں بہت سے فکروں سے آزاد فرما دے گا“۔روزنامه الفضل 23 فروری 2006ء )