خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 529
529 اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک 16148 نے درخواستیں جمع کروادی ہیں۔ان پر پراسس ہو رہا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ قبول ہو جائیں گی۔اس میں سب سے زیادہ پاکستان سے شامل ہوئے ہیں۔10200 سے اوپر۔انڈونیشیا میں 1100 قریباً 1200 جرمنی میں کینیڈا میں 1000 انڈیا میں، اور میرا خیال ہے کہ اس سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔امریکہ سے بھی کافی تعداد آئی تھی۔(الفضل 8 دسمبر 2005ء) ٹارگٹ کا دوسرا حصہ 26 دسمبر 2005ء کو جلسہ سالانہ قادیان سے افتتاحی خطاب میں حضور نے جماعت کو اس تحریک کے دوسرے حصے کی طرف بڑھنے کا ارشاد کرتے ہوئے فرمایا:۔میں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ سو سال پورے ہونے پر کم از کم پچاس ہزار موصیان ہو جائیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت جو تعداد تھی اس میں تقریبا پندرہ ہزار اور شامل ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے UK کے جلسہ تک درخواست دہندگان کی تعداد پوری ہو گئی تھی۔سو سال تو آج دسمبر میں پورے ہورہے ہیں لیکن جو مجلس کار پرداز پاکستان کو درخواستیں پہنچی ہیں وہ تقریباً ساڑھے سترہ ہزار ہیں۔میں نے پندرہ ہزار کہا تھا۔ابھی بہت سے وصیت فارم جماعتوں میں پڑے ہوئے ہیں اور میرے خیال میں اس سے کہیں زیادہ درخواستیں آچکی ہیں جتنا کار پرداز کا خیال ہے۔بہر حال جماعت نے اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے توجہ دی۔حضور نے فرمایا: اب اگلا ٹارگٹ تھا کہ اس وقت جو کمانے والے ہیں یا 2008 ء تک جو بھی کمانے والے ہوں اس کا پچاس فیصد نظام وصیت میں شامل کرنا ہے۔انشاء اللہ۔حضور نے فرمایا: بعض چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے یہ ٹارگٹ حاصل بھی کر لیا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس نظام کو افراد جماعت سمجھنے لگ گئے ہیں اور اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ آج سے سو سال پہلے حضرت مسیح موعود نے جس نظام کا اعلان اس شہر میں فرمایا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی تقدیر کے تحت ہی اس شہر سے میں آپ کو اگلا ٹارگٹ جس کی گزشتہ سال تحریک کی گئی تھی اس کی طرف توجہ دلا رہا ہوں۔حضور انور نے فرمایا کہ بہت سارے لوگ لکھتے ہیں کہ ہم اس فکر میں تو ہیں کہ وصیت کر لیں لیکن