خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 454 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 454

454 چاہئے۔اس طرح یہ حد کی عملی شکل ہو گی جو ہم اختیار کریں گے اور اپنے اعمال سے گواہی دیں گے کہ ہاں واقعہ ہم اللہ کی اس رضا پر بہت راضی ہیں کہ اس نے ہمیں اپنا گھر بنانے کی توفیق بخشی۔پس ہم اس کے غریب بندوں کے گھروں کی تعمیر کی طرف توجہ کر کے اس کے اس عظیم احسان کا عملی اظہار کریں گے۔ہمارا فرض اور حق ہے کہ ان کے لئے کچھ نہ کچھ کریں۔جتنی توفیق ہے۔تھوڑی سہی تھوڑی کریں لیکن اللہ تعالیٰ کی حمد کا عملی صورت میں ایک یہ اظہار بھی کریں کہ ہم اس کے بندوں کے گھروں کی طرف کچھ توجہ دے رہے ہیں۔ویسے تو یہ اتنی بڑی ضرورت ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں بھی اس کو پورا نہیں کر سکتیں۔مگر مجھے اللہ کے فضل سے توقع ہے کہ چونکہ جماعت احمد یہ اس زمانہ میں وہ واحد جماعت ہوگی جو محض رضاء باری تعالیٰ کی خاطر یہ کام شروع کرے گی۔اس لئے اللہ اس میں برکت دے گا اور کروڑوں روپوں کے مقابل پر ہمارے چند روپوں میں زیادہ برکت پڑ جائے گی اور اس کے نتیجہ میں جماعت کے غربا کا ایمان بھی ترقی کرے گا اور اللہ کے فضل بھی ان پر نازل ہوں گے۔خطبات طاہر جلد اول ص 242,240 یہ خلافت رابعہ کی سب سے پہلی مالی تحریک تھی۔حضور نے اس سلسلہ میں کم قیمت مکانوں کا نقشہ تیار کرنے کے لئے انجینئر ز میں مقابلہ کا اعلان بھی کیا۔اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو غیر معمولی مقبولیت عطا فرمائی۔سلسلہ کے مخلصین نے اس میں دل کھول کر حصہ لیا اور ذیلی تنظیموں اور مرکزی انجمنوں نے بھی اپنی بچت سے اس میں حصہ لیا۔جلسہ سالانہ 1982ء پر حضور نے جماعت کو مطلع فرمایا کہ:۔جماعت نے اس منصوبے کی طرف بڑی تیزی سے توجہ کی اور بعض دوستوں نے قربانی کے بڑے شاندار مظاہرے کئے۔مثلاً اس وقت تک دو افراد نے ایک ایک لاکھ روپیہ دیا ہے۔اس کے علاوہ میرے دل میں جن لوگوں کی قدر ہے ان میں خصوصیت کے ساتھ غربا ہیں ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کو خود بھی مکان مہیا نہیں لیکن وہ اس منصوبے میں حصہ لے رہے ہیں اگر کسی کو سوروپیہ کی توفیق ہے تو وہ سو روپے پیش کر رہا ہے اگر کسی کے پاس اپنی ضرورت کے لئے بچائی ہوئی کل رقم دوسو رو پیتھی تو اس نے وہی پیش کر دی“۔( الفضل 22 مئی 1983ء) 1983ء میں مسجد بیت الھدی آسٹریلیا کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو حضور نے 11 نومبر 1983 ء کو پھر