خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 453
453 خدمت خلق کے متعلق تحریکات بيوت الحمد قرآن کریم نے مذہب کا خلاصہ دو باتوں کو قرار دیا ہے۔1۔عبادت الہی۔2۔بنی نوع انسان سے ہمدردی خلافت رابعہ میں ان دونوں پہلوؤں نے تاریخی شکلیں اختیار کیں۔حضور نے 10 ستمبر 1982ء کو سپین میں سات سو سال بعد اللہ کے پہلے گھر مسجد بشارت کا افتتاح فرمایا جو جماعت کے لئے انتہائی مسرت اور خوشی کا موقع تھا اور خدا تعالیٰ کی بے انتہا حمد کی گئی۔حضور نے پاکستان واپسی پر 29 اکتوبر 1982ء کو بیت اقصیٰ ربوہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے حمد باری تعالٰی کو مل شکل میں ڈھالنے کے لئے بیوت الحمد سکیم کا اعلان کیا۔حضور نے فرمایا:۔ساری دنیا میں جماعت احمد یہ اللہ کی حمد کے ترانے گا رہی ہے اور سب دنیا پر یہ حقیقت واضح کر رہی ہے کہ مسجد بشارت کی تعمیر کی جو تاریخ ساز سعادت ہمیں نصیب ہوئی۔یہ محض ہمارے رب کی رحمانیت اور رحیمیت کے طفیل ہے اس نے ہمیں اس مہم کا آغاز کرنے کی توفیق بخشی اور اسی نے تعمیل کے مراحل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی یعنی جو کچھ بھی ہم نے کیا محض اس کی رحمانیت اور رحیمیت کے عظیم فضلوں کے تابع کیا ہمارے دل بھی اس ولولہ کو اور رحمن اور رحیم خدا کے احسانات کو بڑی شدت سے محسوس کر رہے ہیں اور اس کے احسانات کا تصور دل میں محبت کے طوفان اٹھا رہا ہے اور ہر احمدی کا دل پہلے سے بڑھ کر رحمن اور رحیم خدا کی محبت کا جوش محسوس کرتا ہے میں نے سوچا کہ حمد کی یہ دو شرطیں تو ہم نے پوری کر دیں۔تیسری شرط کس طرح پوری کریں۔یعنی اعمال میں اس حمد کو کس طرح جاری کریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے مضامین مجھ پر روشن فرمائے جن کے نتیجہ میں یورپ میں بھی بعض اقدامات کئے گئے اور یہاں آ کر بھی ان اقدامات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا مضمون بھی سمجھایا جس کا میں اب یہاں اعلان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے گھر بنانے کے شکرانہ کے طور پر خدا کے غریب بندوں کے گھروں کی طرف بھی توجہ کرنی