خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 449 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 449

449 ہوں گی۔میں نے ذیلی تنظیموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے افراد کو طلب کریں جو استاد کے طور پر خدمت کے لئے تیار ہوں خواہ ان کی تعداد تھوڑی ہو۔اپنی متعلقہ ذیلی تنظیموں سے انصار، لجنات اور خدام وغیرہ کا انتخاب کریں۔وہ اس کے لئے آگے آئیں۔مثلاً پندرہ دن کے لئے انہیں صرف اتنا کچھ پڑھایا جائے ( اور اس سے زائد ہر گز نہیں ) جسے وہ پوری اہلیت کے ساتھ اخذ کرسکیں۔یہاں تک کہ اس قدر علم وہ نہایت مہارت سے دوسروں کو سکھا سکیں نیز آڈیو ویڈیو کے آلات سے انہیں متعارف کرایا جائے اور یہ کہ ان سے کس طرح استفادہ کیا جاسکتا ہے۔یہ بھی ایک ٹریننگ ہے جس کی ہم سب کوضرورت ہے۔یہ سب کچھ کر لینے کے بعد اگلا مرحلہ اس وقت آئے گا جب وہ تربیت یافتہ استاد اپنے قصبوں اور علاقوں میں واپس جائیں گے۔وہاں جا کر ان کا کام ہوگا کہ اس قسم کی کلاسیں جاری کریں اور دوسرں کو تعلیم دیں، عام شاگردوں کی طرح نہیں بلکہ جس طرح ٹریننگ کالجوں کے طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے۔۔۔۔اور جب ان کے بارے میں یقین ہو جائے کہ اب یہ آگے دوسروں کو اسی قدر پڑھا سکتے ہیں تو یہ حسب دستور کلاسیں جاری کر کے مزید شاگردوں کو وہ کچھ پڑھا ئیں جو انہوں نے سیکھا ہے اور ان کے استاد اپنے پہلے استادوں کے پاس جائیں جنہوں نے اب تک مزید علم حاصل کر لیا ہوگا اور وہ یہ مزید علم حاصل کریں اور اچھی طرح حاصل کرنے کے بعد اپنے پرانے شاگردوں کے پاس جائیں اور انہیں یہ زائد علم پڑھا ئیں اور یہ سلسلہ جاری رہے۔ہر جگہ مناسب طور پر اس سکیم کے نفاذ کی صورت میں آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ ترقی کی رفتار آہستہ ہوگی اور اسے آہستہ ہی ہونا چاہئے کیونکہ اس معاملہ میں ہمیں آہستہ اور محتاط آغاز کی ضرورت ہے۔رپورٹ فارم کو بے ضابطہ قسم کی مساعی سے بھرنا اس پروگرام کے لئے خود کشی کے مترادف ہوگا۔حتی کہ شروع کے تین ماہ میں ، مثال کے طور پر آپ لندن بھر کے لئے جو بہت بڑی جماعت ہے صرف دس اساتذہ تیار کر سکتے ہیں۔میں اس صورتحال پر زیادہ خوش ہوں گا بہ نسبت اس کے مجھے بتایا جائے کہ ہم نے ایک ہزار بچوں کے لئے کلاسوں کا انعقاد کیا۔جو کلاسوں میں شریک ہونے کے لئے آئے مگر بعد ازاں پڑھائی سے ان کا رابطہ منقطع ہو گیا یا یہ کہ وہ سب کچھ بھول گئے جو انہوں نے کلاسوں میں چند دنوں یا چند ہفتوں کے دوران سیکھا تھا۔۔۔۔۔