خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 373
373 جہاد کرنا ہے۔قرآن کریم کے بھی لاکھوں دور ہو جائیں گے۔پس فی ماہ ایک روزہ مہینہ کے آخری ہفتہ میں کسی دن جس کا فیصلہ شہر یا محلہ یا قصبہ یا گاؤں کرے۔اس دن علاوہ روزے کے (وہ دعاؤں کا دن ہے جس طرح ہماری) رمضان کے آخر میں اجتماعی دعا ہوتی ہے جس دن جو علاقہ مہینے کے آخری ہفتہ میں روزے کے لئے مقرر کرے اس دن عصر کے بعد یا مغرب کے بعد جو بھی ان کے لئے سہولت ہو وہ اپنے علاقے کی اپنے حلقے کی اپنے گاؤں کی اپنے قصبے کی اپنے محلے کی اجتماعی دعا کا بھی انتظام کریں اور اپنی زبان میں جو ہم نے دعائیں کرنی ہیں۔علاوہ ان دعاؤں کے جن کا میں ابھی ذکر کروں گا ) اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اس سے دعائیں مانگیں۔۔اگر پانچ لاکھ احمدی بڑا اور چھوٹا مردوزن اس روزے کی طرف ( جو میں تحریک کر رہا ہوں عبادات میں سے نمبر ایک) اس کی طرف توجہ کرے تو نو کروڑ روزے اس منصوبہ کے زمانہ میں رکھے جائیں گے اور نو کروڑ دنوں میں اس کے لئے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور اجتماعی دعائیں ہوں گی۔دوسری تحریک نوافل کی ہے یعنی با قاعدہ جس طرح نماز پڑھی جاتی ہے۔نماز میں فرض بھی ہیں اور سنتیں بھی ہیں اور نوافل بھی ہیں۔نوافل کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر احمدی جس پر نماز فرض ہے ( بعض تو ایسے بچے ہوتے ہیں جن کو شوقیہ اور شوق پیدا کرنے کے لئے اور نماز کی عادت ڈالنے کے لئے ہم نماز پڑھاتے ہیں ایک ایسی عمر ہے جہاں نماز فرض ہو جاتی ہے۔تو ہر وہ احمدی بچہ یا بڑا یا عورت جن دنوں میں اس پر نماز فرض ہے۔جس پر بھی نماز فرض ہے وہ دو رکعت نفل روزانہ پڑھے۔اس منصو بہ میں برکت پیدا کرنے کے لئے دعائیں کرنے کی غرض سے اور روزوں کے متعلق میرا اندازہ پانچ لاکھ افراد کا تھا لیکن نفلوں کے متعلق میرا اندازہ دس لاکھ افراد کا ہے اور دس لاکھ احمدی اگر روزانہ دو نفل پڑھ رہا ہو تو فی روپیہ نو کروڑ رو پیدا اگر آجائے اس کے لحاظ سے فی روپیہ) ایک سو بائیس نوافل بنتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور جو ایک روپیہ قربانی کے لئے پیش کیا جائے ایک سو بائیس نوافل پڑھ کر دعائیں کر کے پیش کریں۔(خطبات ناصر جلد 5 ص 419 حضور نے اس منصوبہ کو صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ اور مالی فنڈ کو صد سالہ جو بلی فنڈ کا نام دیا اور اس