خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 368
368 نصرت جہاں تنظیم نو سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے 1988ء میں افریقہ کا دورہ فرمایا اور 22 جنوری 1988 ء کو خطبہ جمعہ میں نصرت جہاں سکیم میں نئے اضافے فرمائے۔آپ نے فرمایا:۔افریقہ کو جب تاریخی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو افریقہ کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ باہر سے بہت سی قومیں آئیں اور ترقی کے نام پر انہوں نے یہاں بہت سے کام کئے لیکن ان کی اس ساری جد و جہد کا خلاصہ یہ تھا کہ انہوں نے افریقہ میں کمایا اور باہر کی دنیا پر یہاں کی کمائی خرچ کی۔خدا تعالیٰ نے میرے دل میں بڑے زور سے یہ تحریک پیدا فرمائی کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اس تاریخ کا رخ بدل دیا جائے اور تمام عالمگیر جماعت احمد یہ دنیا میں کمائے اور افریقہ میں خرچ کرے۔غیروں نے جو آپ کو زخم لگائے ہیں احمدیت کو خدا توفیق بخشے کہ ان زخموں کے اند مال کا سامان پیدا کرے۔غیر جو آپ کی دولتیں لوٹ چکے وہ لوٹی ہوئی دولتیں آپ کو واپس نہیں کریں گے لیکن خدا جماعت احمدیہ کو تو فیق عطا فرمائے گا کہ ان کی لوٹی ہوئی دولت جماعت احمد یہ آپ کو واپس کر رہی ہوگی۔میں تمام دنیا کی احمدی جماعتوں کو سر دست پہلی ہدایت یہ کرتا ہوں کہ وہ کمر ہمت کسیں اور افریقہ کی ہر میدان میں پہلے سے بڑھ کر محض اللہ خدمت کرنے کی تیاری شروع کر دیں۔مثلاً امریکہ کی احمدیہ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن جلد از جلد اپنے نمائندے بھجوائے جو سارے افریقہ کے ان ممالک کا دورہ کریں جن میں جماعت احمد یہ خدمت کی توفیق پا رہی ہے وہ جائزہ لے کر اور واپس جا کر اپنی مجلس میں معاملات رکھیں اور پھر ان کی مجلس کی طرف سے یعنی احمد یہ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن امریکہ کی طرف سے مجھے یہ سفارشات ملیں کہ افریقہ میں خدمت کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے یہ یہ تجاویز ہم پیش کرتے ہیں اور ان میں ہماری طرف سے یہ تعاون ہو گا۔اسی طرح انگلستان، یورپ اور دیگر ممالک کی احمد یہ ڈاکٹرز ایسوسی ایشنز بھی مجھ سے رابطہ کریں اور بتائیں کہ وہ اس ضمن میں کیا خدمت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ڈاکٹروں کی تو میں نے ایک مثال دی ہے اس کے علاوہ بھی دنیا میں جس پیشے سے یا جس علمی مہارت سے تعلق رکھنے والے احمدی موجود ہیں۔ان سب کو اپنے اپنے حالات کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ افریقہ کی مظلوم انسانیت کی خدمت کے لئے اپنا کتنا وقت پیش کر سکتے ہیں اور ان کی