خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 348 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 348

348 پریس کے قیام کی تحریک - جماعت کا اپنا پریس نہ ہونے کی وجہ سے اشاعت قرآن کے منصوبہ میں دیر ہوتی تھی اور دیگر مشکلات پیش آتی تھیں۔چنانچہ حضور نے اللہ تعالیٰ کی منشاء سے 9 جنوری 1970ء کے خطبہ میں پریس کے قیام کی تحریک فرمائی۔حضور نے فرمایا:۔بڑے زور سے میرے دل میں یہ خیال پیدا کیا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دو چیزیں ہمارے پاس اپنی ہوں۔ایک تو ہمارے پاس بہت اچھا پر لیس ہو۔۔۔۔اس اچھے پریس کے لئے ہمیں 10,5 لاکھ روپیہ کی ضرورت ہوگی اگر اپنا پر لیس ہوگا تو قرآن کریم سادہ یعنی قرآن کریم کا متن بھی ہم شائع کر لیا کریں گے اس کی اشاعت کا بھی تو ہمیں بڑا شوق اور جنون ہے یہ بات کرتے ہوئے بھی میں اپنے آپ کو جذباتی محسوس کر رہا ہوں ہمارا دل تو چاہتا ہے کہ ہم دنیا کے ہر گھر میں قرآن کریم کا متن پہنچا دیں۔اللہ تعالیٰ آپ ہی اس میں برکت ڈالے گا تو پھر بہتوں کو یہ خیال پیدا ہوگا کہ ہم بہ زبان سیکھیں یا اس کا ترجمہ سیکھیں پھر اور بھی بہت سارے کام ہیں جو ہم صرف اس وجہ سے نہیں کر سکتے کہ ہمارے پاس پریس نہیں لیکن میرے دل میں جو شوق پیدا کیا گیا ہے اور جو خواہش پیدا کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ سارے پاکستان میں اس جیسا اچھا پر لیس کوئی نہ ہو اور پھر اس پر لیس کو اپنی عمارت کے لحاظ سے اور دوسری چیزوں کا خیال رکھ کر اچھا رکھا جائے۔عمارت کو ڈسٹ پروف Dust Proof) بنایا جائے تا ہم ایک دفعہ دنیا میں اپنی کتب کی اشاعت کر جائیں۔(خطبات ناصر جلد 3 ص 25,24 ) اشاعت قرآن کے 3 مراحل : چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے 18 فروری 1973ء کور بوہ میں ایک جدید پریس کا سنگ بنیاد رکھا۔بعد ازاں اس کا نام نصرت پرنٹرز اینڈ پبلشرز کر دیا گیا۔حضور نے اس پریس کے قیام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے اشاعت قرآن کے عظیم منصوبے کا اعلان فرمایا۔آپ نے فرمایا:۔اشاعت قرآن کے سلسلہ میں تین مرحلے آتے ہیں ایک یہ کہ متن قرآن کریم کو ہر مسلمان کے ہاتھ میں پہنچا دیا جاوے یہی نہیں بلکہ قرآن عظیم کو دنیا کے ہر انسان کے ہاتھوں تک ہی پہنچا دیا جائے۔دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ ہر قوم اور ہر ملک کی زبان میں کیا جائے تاکہ دنیا کے ہر