خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 19 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 19

19 موعود کی زندگی میں اشاعت حق کا عہد کر چکے تھے ) کی درخواست تقر ر حضرت خلیفہ امسیح الاول کی خدمت میں بھجوائی جائے۔چنانچہ حضور نے ان کی تقرری منظور فرمائی اور ہدایات دیں۔( تاریخ احمدیت جلد 3 ص 216,208 ) 16 جولائی 1908ء کو قرآن کریم کا درس دیتے ہوئے حضرت خلیفہ مسیح الاول نے حضرت مسیح موعود کے مذکورہ بالا اشتہار مفید الا خیار کے حوالے سے جماعت کو حضرت مسیح موعود کی کتب کا امتحان دینے اور مبلغین و واعظین کے تیار ہونے کی تحریک فرمائی اور فرمایا کہ حضرت اقدس کے مذکورہ اشتہار کی اشاعت کی جائے اور جو لوگ اخبار نہیں پڑھتے ان کو دوسرے لوگ یہ اشتہا ر سنا دیں۔(الحکم 18 جولائی 1908 ء ) اگست 1909ء میں حضور نے اپنے ایک پیغام میں فرمایا: قوم میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے مطلوب ہیں جن کو دنیا کی پروا بھی نہ ہو جب مقابلہ دین و دنیا کا آکر پڑے۔باہمت واعظ مطلوب ہیں جو اخلاص وصواب سے وعظ کریں، عاقبت اندیش صرف اللہ پر بھروسہ کرنے والے۔دعاؤں کے قائل اور علم پر نہ گھمنڈ کرنے والے علماء مطلوب ہیں جن کو فکر لگی ہو کہ کیا کیا جائے کہ اللہ راضی ہو جائے“۔چنانچہ بہت جلد حضور کی اجازت سے صدر انجمن احمدیہ نے واعظین مقرر کر دیئے۔1۔حضرت شیخ غلام احمد صاحب۔یکم اگست 1908ء کو امرتسر سے حیدر آباد تک دورہ پر روانہ ہو گئے۔2۔مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی پنجابی کے مشہور شاعر تھے۔( الحکم 7 راگست 1909 ء ص 1) 3۔حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی۔پنجابی کے بہت عمدہ واعظ تھے۔4۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی۔آپ کو 1910ء میں جماعت لاہور کے لئے مقرر تاریخ احمدیت جلد 3 ص 324) فرمایا گیا۔یہ با قاعده واعظین یا مربیان تھے ان کے علاوہ جلسوں اور مباحثوں میں حصہ لینے والے بیسیوں افراد تھے جو حضور کی اس تحریک میں شامل ہوئے۔بعد میں جامعہ احمدیہ کے قیام اور خلفاء کی طرف سے وقف زندگی کی تحریکات کے نتیجہ میں بیسیوں مربیان اور مبلغین سلسلہ کو میسر آگئے۔وقف جدید کے