خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 18 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 18

18 اشتہار بعنوان ”اشتہار مفید الاخیار شائع کیا اور ایک سو مبلغین کی تحریک فرمائی جو نشانات اور دلائل کے ساتھ مخالفین کا مقابلہ کر سکیں۔اس کے لئے حضور نے اپنی کتابوں کے مطالعہ کو ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا: ہماری اس جماعت میں کم سے کم سو آدمی ایسا اہل فضل اور اہل کمال ہو کہ اس سلسلہ اور اس دعوئی کے متعلق جو نشان اور دلائل اور براہین قویہ قطعیہ خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں ان سب کا اس کو علم ہو اور مخالفین پر ہر ایک مجلس میں بوجہ احسن اتمام حجت کر سکے اور ان کے مفتر یا نہ اعتراضات کا جواب دے سکے اور خدا تعالیٰ کی حجت جو ان پر وارد ہو چکی ہے بوجہ احسن اس کو سمجھا سکے اور نیز عیسائیوں اور آریوں کے وساوس شائع کردہ سے ہر ایک طالب حق کو نجات دے سکے اور دین اسلام کی حقیت اکمل اور اتم طور پر ذہن نشین کر سکے۔پس ان تمام امور کے لئے یہ قرار پایا ہے کہ اپنی جماعت کے تمام لائق اور اہل علم اور زیرک اور دانشمند لوگوں کو اس طرف توجہ دی جائے کہ وہ 24 دسمبر 1901 ء تک کتابوں کو دیکھ کر اس امتحان کے لئے طیار ہو جائیں اور دسمبر آئندہ کی تعطیلوں پر قادیان میں پہنچ کر امور متذکرہ بالا میں تحریری امتحان دے۔اس جگہ اسی غرض کے لئے تعطیلات مذکورہ میں ایک جلسہ ہوگا اور مباحث مندرجہ کے متعلق سوالات دیئے جائیں گے۔ان سوالات میں وہ جماعت جو پاس نکلے گی ان کو ان خدمات کے لئے منتخب کیا جائے گا اور وہ اس لائق ہوں گے کہ ان میں سے بعض دعوت حق کے لئے مناسب مقامات میں بھیجے جائیں اور اسی طرح سال بسال یہ مجمع انشاء اللہ تعالیٰ اسی غرض سے قادیان میں ہوتا رہے گا جب تک کہ ایسے مباحثین کی ایک کثیر العدد جماعت طیار ہو جائے ، مناسب ہے کہ ہمارے احباب جو زیرک اور عقلمند ہیں اس امتحان کے لئے کوشش کریں۔( مجموعہ اشتہارات جلد 2 ص 522) حضرت مسیح موعود کی زندگی میں بوجوہ اس تحریک پر عمل نہ ہوسکا اور نہ ہی کوئی واعظ مقرر ہوسکا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے اپنی پہلی تقریر میں واعظین کے بہم پہنچانے کو بھی بیعت خلافت کی شرائط میں شامل فرما دیا۔(احکم 6 جون 1908 ء ) 30 مئی 1908 ء کو خلافت اولیٰ میں صدر انجمن احمدیہ کا پہلا اجلاس زیر صدارت حضرت سید نا مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہوا۔اس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ شیخ غلام احمد صاحب ( جو حضرت مسیح