خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 335
335 جائیداد میں اسلام و احمدیت کے لئے پیش کر دی تھیں۔ازاں بعد جب حضور نے اپنی زبان مبارک سے پہلی بار خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی تو قادیان کے دوسرے دوستوں نے بھی چند گھنٹوں کے اندراندر (الفضل 14 مارچ1944ء) قریباً چالیس لاکھ روپے کی جائیداد میں وقف کر دیں۔جس پر پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا:۔میں نے جائیداد وقف کرنے کی تحریک کی تھی۔قادیان کے دوستوں نے اس کے جواب میں شاندار نمونہ دکھایا ہے اور اس تحریک کا استقبال کیا ہے۔بہت سے دوستوں نے اپنی جائیداد میں وقف کر دی ہیں۔(الفضل 31 مارچ 1944ء) قادیان کے بعد بیرونی مخلص جماعتوں نے بھی اس قربانی میں سبقت لے جانے کی مخلصانہ جدو جہد کی۔نتیجہ یہ نکلا کہ وقف ہونے والی جائیدادوں کی مالیت چند دنوں کے اندر اندر کروڑ تک جا پہنچی۔ان دنوں جوش کا یہ عالم تھا کہ جو احمدی ذاتی جائیداد میں نہ رکھتے تھے وہ اپنی ماہوار یا سال بھر کی آمدنیاں وقف کر کے دیوانہ وار اس مالی جہاد میں شامل ہو گئے۔چنانچہ 24 اپریل 1945 ء تک کی شائع شدہ فہرستوں کے مطابق وقف کنندگان کی تعداد 2271 بنتی تھی۔(الفضل 24 اپریل 1945 ء ) تحریک اصلاح و ارشاد ( مقامی ) جلسہ سالانہ 1958 ء کے موقع پر محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب حج عالمی عدالت نے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر جماعت کے سامنے ایک سکیم پیش کی کہ جماعت کے ایک سو صاحب ثروت احباب تین سال تک 25 روپے ماہوار کے حساب سے چندہ دیں اور اس رقم سے اصلاح و ارشاد مقامی کو مضبوط کیا جائے۔عام بجٹ اتنا نہیں ہوتا کہ اس سے اس کام کو کما حقہ تیز کیا جا سکے۔اس کے لئے زائد رقم کی ضرورت ہے جو اس سکیم کے نتیجہ میں مہیا کی جائے گی۔اس سکیم کے نتیجہ میں بجٹ سے زائد وصولی ہونے والی آمد کی مدد سے دوروں اور مربیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور اس کے نہایت شاندار نتائج نکلے۔چنانچہ مقامی اصلاح و ارشاد کے ماتحت علاقہ میں پچاس سے زائد جماعتیں قائم ہوئیں۔جن کی تعداد افراد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔کمزور جماعتوں کی تربیت کی گئی اور انہیں بیدار کیا گیا۔