خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 301 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 301

301 فرقان بٹالین کا قیام جون: حکومت پاکستان کے بعض فوجی افسران کی درخواست پر حضور نے 50 احمدی جوان جموں کے محاذ پر بھجوائے۔پھر جون 1948ء میں باقاعدہ رضا کار بٹالین فرقان بٹالین کے نام سے معرض وجود میں آئی۔جس میں حضور کے بیٹے بھی شامل تھے۔اس کمیٹی نے دو سال تک شاندار مجاہدانہ کارنامے سرانجام دیئے۔9 مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔17 جون 1950ء کو اس کی سبکدوشی عمل میں آئی۔حضرت مصلح موعود خود بھی محاذ پر تشریف لے گئے اور معائنہ فرمایا۔1965ء میں خدمات: حضرت مصلح موعودؓ کے دور خلافت کے آخری ایام میں 1965ء میں کشمیر کے محاذ پر احمدی جرنیلوں خاص طور پر جنرل اختر حسین ملک نے تاریخی خدمات سرانجام دیں جن کا ایک زمانہ معترف ہے۔ایک جاری وعدہ حضرت مصلح موعودؓ نے نہایت اولوالعزمی کے ساتھ سالانہ جلسہ 1931 ء پر واضح اعلان فرمایا کہ: میں نے اپنے نفس سے اقرار کیا ہے اور طریق بھی یہی ہے کہ مومن جب کوئی کام شروع کرے تو اسے ادھورا نہ چھوڑے۔میں نے کشمیر کے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک کامیابی حاصل نہ ہو جائے خواہ سو سال لگیں۔ہماری جماعت ان کی مدد کرتی رہے گی اور آج میں اعلان کرتا ہوں کہ کل پرسوں ترسوں سال دو سال سود و سو سال جب تک کام ختم نہ ہو جائے ہماری جماعت کام کرتی رہے گی۔۔۔پس ہماری جماعت کو مسلمانان کشمیر کی امداد جاری رکھنی چاہئے۔جب تک کہ ان کو اپنے حقوق حاصل نہ ہو جائیں۔خواہ اس کے لئے کتنا عرصہ لگے اور خواہ مالی اور خواہ کسی وقت جانی قربانیاں بھی الفضل 10 جنوری 1932 ء۔انوار العلوم جلد 12 ص 405 ) کرنی پڑیں۔پس اہل کشمیر کو حقوق ملنے تک جماعت کی طرف سے خدمت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔