خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 283 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 283

283 نے لکھا۔رشی دیانند اور منشی اندرمن کے زبر دست اعتراضات کی تاب نہ لا کر مرزا غلام احمد قادیانی نے احمد یہ تحریک کو جاری کیا۔احمدیہ تحریک کا زیادہ تر حلقہ کار مسلمانوں کے درمیان رہا۔اس جماعت کے کام نے مسلمانوں کے اندر حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دی ہے۔اس تحریک نے مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کر دیا۔آج مسلمان ایک طاقت ہیں، مسلمان قرآن کے گرد جمع ہو گئے۔(الفاروق 21, 28 اپریل 1932 ء ص 10۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 5 ص 271) مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے دعا کی تحریک دوسری جنگ عظیم کے دوران وسط 1942ء میں محوری طاقتوں کا دباؤ مشرق وسطی میں زیادہ بڑھ گیا اور جرمن فوجیں جنرل رومیل کی سرکردگی میں 21 جون کو طبروق کی قلعہ بندیوں پر حملہ کر کے برطانوی افواج کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہو گئیں جس کے بعد ان کی پیش قدمی پہلے سے زیادہ تیز ہو گئی اور یکم جولائی تک مصر کی حدود کے اندر گھس کر العالمین کے مقام تک پہنچ گئیں جو سکندریہ سے تھوڑی دور مغرب کی جانب برطانوی مدافعت کی آخری چوکی تھی جس سے مصر براہ راست جنگ کی لپیٹ میں آگیا اور مشرق وسطی کے دوسرے اسلامی ممالک خصوصاً حجاز کی ارض مقدس پر محوری طاقتوں کے حملہ کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔ان پر خطر حالات میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے 26 جون 1942 ء کے خطبہ جمعہ میں عالم اسلام کی نازک صورتحال کا دردناک نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا کہ:۔اب جنگ ایسے خطر ناک مرحلہ پر پہنچ گئی ہے کہ اسلام کے مقدس مقامات اس کی زد میں آگئے ہیں۔مصری لوگوں کے مذہب سے ہمیں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔وہ اسلام کی جو تو جیہ وتفسیر کرتے ہیں ہم اس کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہوں اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ ظاہر ا طور پر وہ ہمارے خدا ہمارے رسول اور ہماری کتاب کو ماننے والے ہیں۔ان کی اکثریت اسلام کے خدا کے لئے غیرت رکھتی ہے۔ان کی اکثریت اسلام کی کتاب کے لئے غیرت رکھتی ہے اور ان کی اکثریت محمد ﷺ کے لئے غیرت رکھتی ہے۔اسلامی لٹریچر شائع کرنے اور اسے محفوظ رکھنے میں یہ قوم صف اول میں رہی