خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 282
282 ان کی مدد کی جاسکے۔میں ایک لائق ڈاکٹر کی خدمات پیش کرتا ہوں۔جو بشرط ضرورت ان زخمیوں کا علاج کرے گا جن کے متعلق میں نے سنا ہے کہ کثیر تعداد میں سرکاری علاقے میں آگئے ہیں۔نیز میں ان لوگوں کے لئے جن کو اس لڑائی میں تکلیف پہنچی ہے ہر ایک قسم کی مالی واخلاقی مدد دینے کا جو میری طاقت میں ہے وعدہ کرتا ہوں۔اخبار تنظیم امرتسر 14 اگست 1927ء ص 2۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 ص 626) مل کر مقابلہ کرو ہندوستان کے سیاسی تغیرات اپنے ساتھ مذہبی خطرات بھی لا رہے تھے۔وہ مسلمان جو پہلے ہی اقتصادی طور پر ہندوؤں کے دست نگر اور ذہنی طور پر ان کے زیر اثر تھے اور تعلیمی اور دنیوی ترقیات - محروم چلے آرہے تھے اور ان کا تبلیغی مستقبل بھی تاریک نظر آرہا تھا۔چنانچہ گاندھی جی کا اخبار سٹیٹمین میں ایک انٹرویو شائع ہوا کہ سوارج ( ملکی حکومت) مل جانے کے بعد اگر غیر ملکی مشنری ہندوستانیوں کے عام فائدہ کے لئے روپیہ خرچ کرنا چاہیں گے تو اس کی تو انہیں اجازت ہوگی لیکن اگر وہ تبلیغ کریں گے تو میں انہیں ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کروں گا۔جس کے معنے اس کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ سوارج میں مذہبی تبلیغ بند ہو جائے گی۔اس کے علاوہ ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات برابر ہورہے تھے۔پہلے بنارس میں فساد ہوا۔پھر آگرہ اور میرزا پور میں اور پھر کانپور میں مسلمانوں کو نہایت بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس نازک موقع پر مارچ 1931ء میں مسلمانوں کو پھر اتحاد کی پر زور تلقین فرمائی اور نصیحت کی کہ اگر مسلمان ہندوستان میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔تو انہیں یہ سمجھوتہ کرنا چاہئے کہ اگر دیگر قوموں کی طرف سے کسی اسلامی فرقہ پرظلم ہو تو خواہ اندرونی طور پر اس سے کتنا ہی شدید اختلاف کیوں نہ ہو اس موقع پر سب کو متفق ہو جانا چاہئے۔(خطبات محمود جلد 13 ص 116) تحریک اتحاد کے تعلق میں جماعت احمدیہ کی کوششیں کہاں تک بار آور ہوئیں اس کا اندازہ ایک ہندو اخبار کے حسب ذیل الفاظ سے لگ سکتا ہے۔اخبار ” آریہ ویر لاہور ( 9 اگست 1931 ء ص 6)