خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 255
255 قوموں کی اصلاح نو جوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی اور تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں“ اس تنظیم کی تربیت خلفاء سلسلہ کے مقدس ہاتھوں سے ہوئی ہے اور خود حضرت مصلح موعود اور پھر خلیفہ اسی الثالث اور خلیفہ امسیح الرابع خلافت سے قبل اس کے صدر رہے ہیں۔اسی طرح حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے بھی کلیدی خدمات سرانجام دی ہیں۔اس مجلس کے تمام اخراجات اس کے ممبران کے چندوں سے سرانجام پاتے ہیں اور اس کی خدمات کے غیر بھی معترف ہیں۔مجلس اطفال الاحمديه: 26 جولائی 1940ء کو حضور نے مجلس اطفال الاحمدیہ کے قیام کا اعلان فرمایا یہ تنظیم مجلس خدام الاحمدیہ کے زیر نگرانی بہترین تربیتی اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔مجلس انصار اللہ کا قیام سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تحریک اور راہنمائی میں دسمبر 1922 ء سے عورتوں کی تربیت کے لئے لجنہ اماءاللہ اور جنوری 1938ء سے نوجوانوں کی تربیت کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیمیں قائم تھیں اور بہت جوش و خروش سے اپنی تربیتی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں اور ان کی وجہ سے جماعت میں خدمت دین کا ایک خاص ماحول پیدا ہو چکا تھا۔مگر ایک تیسرا طبقہ ابھی ایسا باقی تھا جو اپنی پختہ کاری لمبے تجربہ اور فراست کے اعتبار سے اگر چہ سلسلہ احمدیہ کی بہترین خدمات بجالا رہا تھا مگر کسی مستقل تنظیم سے وابستہ نہ ہونے کے باعث قوم کی اجتماعی تربیت میں پورا حصہ نہیں لے سکتا تھا۔حالانکہ اپنی عمر اور اپنے تجربہ کے لحاظ سے قومی تربیت کی ذمہ داری براہ راست اسی طبقہ پر پڑتی تھی۔علاوہ ازیں خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کے اندر خدمت دین کے جوش کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے بھی ضروری تھا کہ جب جوانی کے زمانہ کی دینی ٹریننگ کا دور ختم ہو اور وہ عمر کے آخری حصہ میں داخل ہوں تو وہ دوبارہ ایک تنظیم ہی کے تحت اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزار ہیں اور زندگی کے آخری سانس تک دین کی نصرت و تائید کے لئے سرگرم عمل رہیں۔