خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 217 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 217

217 متعلق بنیادی ہدایات ارشاد فرما ئیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ:۔1۔فی الحال ستمبر 1946ء سے اگست 1952 ء تک کی تاریخ لکھنے کا کام آپ کے سپرد کیا جاتا ہے۔یہ حصہ لکھنے کے بعد دوسرے حصوں کی طرف توجہ دینا ہوگی۔2۔تاریخ کی ترتیب و تدوین میں علاوہ دیگر ماخذوں کے لاہور کی پبلک لائبریری سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔3۔اس حصہ تاریخ میں نمایاں طور پر قیام واستحکام پاکستان کے سلسلہ میں جماعتی خدمات کو پیش کیا جائے۔حوالہ پورا نقل کیا جائے اور جو مواد بھی مل سکے اس کو جمع کر دیا جائے تا مستقبل کے مؤرخ اس سے انتخاب کر کے اپنے زمانہ میں ان واقعات کی ترتیب دے سکیں۔تاریخ احمدیت کی تدوین کا دفتر ابتداء پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر کے کمرہ ملاقات میں قائم کیا گیا بعد ازاں جب خلافت لائبریری کے نئے کمرے تعمیر ہو گئے تو اسے لائبریری میں منتقل کر دیا گیا۔یہ محکمہ چونکہ حضور کی تحریک خاص سے قائم ہوا تھا اس لئے حضور اس کی خاص طور پر نگرانی اور راہنمائی فرماتے تھے۔حضور کی شروع ہی سے تاکیدی ہدایت تھی کہ اس شعبہ کی ہفتہ وار رپورٹ آنی چاہئے۔چنانچہ (حضور کی بیماری یا سفر یورپ کے دنوں کے سوا) اس شعبہ کی کارگزاری با قاعدگی سے حضور کی خدمت میں پیش کی جاتی تھی حضور ا سے ملاحظہ فرما کر بعض اوقات اپنے دست مبارک سے اور بعض اوقات زبانی ارشادات فرما دیتے۔حضور کے بعض احکام حضرت سیدہ ام متین صاحبہ حرم حضرت مصلح موعود کے قلم سے بھی لکھے ہوتے تھے۔22 مئی 1955ء کو حضرت خلیفہ المسح الثاني لمصلح الموعوز یورچ (سوئٹزرلینڈ میں تشریف فرما تھے روز حضور نے مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ پرائیویٹ سیکرٹری کو مکرم مولوی محمد صدیق صاحب انچارج خلافت لائبریری ربوہ کے نام خط لکھوایا کہ ”مہماشہ صاحب نے جتنا کام کر لیا کرلیا باقی دوست محمد صاحب شروع کر دیں بہر حال تاریخ سلسلہ ہم نے بھنی ہے 1938 ء - 19 ء سے پہلے لکھ لیں پچھلی بعد میں لکھ لی جائے گی“۔حضور کا یہ ارشاد 29 مئی 1955 ء کور بوہ میں موصول ہوا۔ازاں بعد 6 فروری 1956ء کو شعبہ تاریخ کی رپورٹ ملاحظہ کر کے ارشاد فرمایا:۔