خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 214
214 تاریخی کتب 1937ء کی تحریک کے نتیجہ میں نہ صرف روایات صحابہ کے جمع و اشاعت کا کام پوری توجہ اور با قاعدگی سے شروع ہو گیا بلکہ ایسا لٹریچر بھی تیار ہونے لگا جو سید نا حضرت مسیح موعود اور خلافت اولی و ثانیہ کے عہد مبارک کی تاریخ پر مشتمل تھا۔چنانچہ فروری 1938ء میں مکرم چوہدری محمد شریف صاحب مولوی فاضل مربی سلسلہ احمدیہ نے ”سلسلہ عالیہ احمدیہ اور دسمبر 1938ء میں ملک فضل حسین صاحب مہاجر نے تاثرات قادیان“ شائع کی۔دسمبر 1939ء میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے قلم۔سلسلہ احمدیہ جیسی شاندار تالیف، اشاعت پذیر ہوئی جو سلسلہ احمدیہ کی پچاس سالہ تاریخ پر ایک مختصر مگر نہایت جامع اور حقیقت افروز کتاب تھی۔1942ء میں شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مدیر الحکم نے مرکز احمدیت۔قادیان“ کے نام سے ایک پر از معلومات کتاب چھپوائی۔1945ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد نے اپنی محققانہ تالیف Life of Ahmad" کا حصہ اول مکمل کیا جو 1948 ء میں لاہور سے شائع ہوا۔1950ء میں ملک صلاح الدین صاحب ایم اے درویش قادیان نے اصحاب احمد کی پہلی جلد اور 1952ء میں دوسری جلد شائع کی جس سے سلسلہ کے لٹریچر میں قابل قدر اضافہ ہوا۔اسی طرح 1951ء کے دوران حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی حیات قدسی کے دو حصے حیدر آباد دکن سے سیٹھ علی محمد۔اے۔الہ دین صاحب کے زیر انتظام چھپے اور ہر طبقہ کے لئے ازدیاد ایمان کا موجب بنے۔دو تاریخ کی باقاعدہ تدوین کا آغاز 1953ء کا سال اگر چہ ابتلاؤں کا سال تھا مگر یہی وہ سال تھا جس میں سید نا حضرت مصلح موعود کی تحریک خاص سے مرکز احمدیت میں تاریخ سلسلہ احمدیہ کی تدوین و اشاعت کی مرکزی سطح پر بنیاد پڑی۔اس کا محرک در اصل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا ایک مکتوب تھا جو آپ نے 24 مارچ 1953 ء کو حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت بابرکت میں لکھا اور جس میں ایک عزیز کی یہ تجویز عرض کی گئی تھی کہ کوائف 1953ء سے متعلق حکومت پاکستان کے مرکزی اور صوبائی افسروں کے بیانات ایک