خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 200
200 جس میں ایسے جلسے ہوتے رہیں یا شیڈ کے طور پر ایسی جگہ بنائیں جس میں کم از کم ایک لاکھ آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہو حضرت مسیح موعود نے اپنی اولاد کے لئے دعا فرمائی ہے کہ ایک سے ہزار ہوویں اور نبی کی اولاد اس کی جماعت بھی ہوتی ہے۔اس لئے 100 کو ہزار سے ضرب دیں۔تو ایک لاکھ بنتا ہے۔ان کے بیٹھنے کے لئے جگہ بنانی چاہئے۔گوہم جانتے ہیں کہ کچھ ہی عرصہ کے بعد آنے والے کہیں گے کہ یہ بیوقوفی کی گئی۔کم از کم دس لاکھ کے لئے تو جگہ بنانی چاہئے تھی۔پھر اور آئیں گے جو کہیں گے یہ کیا بنا دیا کروڑ کے لئے جگہ بنانی چاہئے تھی۔اس لئے میری تجویز یہ ہے کہ پانچ سال میں دولاکھ روپیہ ہم اس غرض کے لئے جمع کریں۔پانچ سال کا عرصہ اس لئے میں نے رکھا ہے کہ اس وقت تک جنگ کی وجہ سے جو گرانی ہے وہ دور ہو جائے گی اور ہم ایسی عمارت بناسکیں گے۔اس لئے فی الحال میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ آئندہ پانچ سال میں اس بات کو مدنظر رکھ کر دو لاکھ روپیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے جمع کریں میں اس تجویز کو بھی منظور کرتا ہوں کہ بجٹ میں یہ رقم رکھنے اور مجلس شوری میں پیش کرنے کی بجائے انفرادی طور پر جماعت سے لے لی جائے۔دو ہزار روپیہ جو چوہدری اسد اللہ خاں صاحب نے دیا ہے۔اسی دو لاکھ کی رقم میں داخل کرتا ہوں۔یہ رقم اعلان کر کے طوعی چندہ سے پوری کر لی جائے گی۔اس وقت تک حضور کے آگے میز پر وعدوں کی تحریریں اور نقد رقوم بہت سی جمع ہو چکی تھیں۔جن کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا :۔یہ رفعے اور روپے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری والے اٹھالیں۔میں اس بارہ میں بری ہوتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے حضور دفتر والے جواب دہ ہوں گے۔یہ فرمانے پر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور جلسہ ختم ہی کرنے والے ہیں اور حضور نے رقوم پیش کرنے والوں کے نام سنانے کا ارشاد فرمایا اور اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ اس فنڈ میں دینے کا ارشاد فرمایا۔ابھی چند ہی نام سنائے گئے تھے کہ اس کثرت سے احباب نے اپنے نام پیش کرنے شروع کر دیئے کہ حضور نے فرمایا۔احباب باری باری بولیس تا ان کے نام لکھے جاسکیں اور ساتھ ہی حضور نے کئی اور اصحاب کو نام لکھنے پر مقرر کر دیا۔کچھ دیر بعد حضور نے فرمایا کہ میں اپنی طرف سے، اپنے خاندان کی طرف سے نیز چودھری ظفر اللہ خان صاحب اور ان