خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 166
166 چندہ کی تحریک برابر جاری رکھی اور اس پر بہت زور دیا۔چنا نچہ فرمایا:۔اس سال ہالینڈ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف احمدی مستورات کے چندہ سے ہی ایک نہایت عظیم الشان مسجد تعمیر ہوئی ہے لیکن اس پر جو خرچ ہوا ہے وہ ابتدائی اندازے سے بہت بڑھ گیا ہے۔اس وقت تک مستورات نے جو چندہ دیا ہے۔91 ہزار روپیہ اس سے زائد خرچ ہو گیا ہے۔مستورات کو چاہئے کہ جلد یہ رقم جمع کر دیں۔ایک اور موقعہ پر فرمایا :۔عورتوں نے ہالینڈ کی مسجد کا چندہ اپنے ذمہ لیا تھا مگر اس پر بجائے ایک لاکھ کے جو میرا اندازہ تھا ایک لاکھ چوہتر ہزار روپیہ خرچ ہوا۔78 ہزار ان کی طرف سے چندہ آیا تھا گویا ابھی 96 ہزار باقی ہے۔پس عورتوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ وہ 96 ہزار روپیہ جلد جمع کریں تا کہ مسجد ہالینڈ ان کی ہو جائے۔بعد ازاں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ:۔میں نے مسجد ہالینڈ کی تعمیر کے لئے عورتوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی جس میں سے 99 ہزار عورتیں اس وقت تک دے چکی ہیں لیکن جو اندازہ وہاں سے آیا تھا وہ ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تھا اور عملاً اب تک ایک لاکھ چھہتر ہزار روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔تحریک جدید کا ریکارڈ کہتا ہے عورتیں ننانوے ہزار روپیہ دے چکی ہیں۔میں نے وکالت مال کے شعبہ بیرون کے انچارج چوہدری شبیر احمد صاحب کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ریکارڈ ہے جس سے معلوم ہو کہ جب ہیگ سے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تخمینہ آیا تھا تو میں نے عورتوں سے اس قدر چندہ کرنے کی اجازت دی ہو کیونکہ عورتوں کا حق تھا کہ چندہ لینے سے پہلے ان سے پوچھ لیا جاتا کہ کیا وہ یہ چندہ دے بھی سکتی ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا افسوس ہے کہ اس وقت ہم سے غلطی ہوئی اور ہم نے حضور سے دریافت نہ کیا کہ آیا مزید رقم بھی عورتوں سے جمع کی جائے۔ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں جس کی رو سے زیادہ رقم اکٹھی کرنے کی منظوری لی گئی ہو۔میں نے کہا میں یہ مان لیتا ہوں کہ آپ نے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپیہ کے جمع کرنے کی منظوری مجھ سے نہ لی لیکن جب وہ رقم ایک لاکھ پچھہتر ہزار بن گئی تو پھر تو آپ نے مجھ سے منظوری لینی تھی کیا آپ نے مجھ سے منظوری لی۔انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہم نے اس کے متعلق بھی حضور سے کوئی منظوری نہیں لی اور ہمارے