خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 153 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 153

153 ہے وہ یہی ہے کہ میں مسجد لندن کا معاملہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر رہا تھا میں اللہ تعالیٰ کے حضور دوزانو بیٹھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔جماعت کو چاہئے کہ ”جد سے کام لیں اور ھرل سے کام نہ لیں۔جد“ کا لفظ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اس کے مقابلہ میں دوسرا لفظ مھر ل“ اس حالت میں معاً میرے دل میں آیا تھا اس کے معنے یہ ہیں کہ جماعت کو چاہئے کہ اس کام میں سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام لے ہنسی اور محض واہ واہ کے لئے کوشش نہ کرے۔(رویا و کشوف سید نا محمودص 55) چنانچہ جماعت نے جس سنجیدگی اور اخلاص سے حضور کی اس تحریک میں حصہ لیا۔وہ اپنوں کو تو کیا غیروں کو بھی متاثر کئے بغیر نہ رہ سکا۔چنانچہ آریہ اخبار پر کاش لاہور نے اپنے 18 جنوری 1920ء کے الیشوع میں لکھا کہ :۔اس مسجد لندن کے خرچ کا کا اندازہ میں ہزار لگایا گیا ہے۔لندن جیسے شہر میں تمہیں ہزار کی لاگت پر ایک مسجد کا تیار ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔لیکن اس بات کو چھوڑ کر ہم ان کی ہمت کی طرف نظر ڈالتے ں۔مرزا محمود احمد صاحب نے قادیان کے احمدیوں سے اپیل کی جس پر بارہ ہزار روپیہ جمع ہو گیا۔جب قادیان میں اس قدر روپیہ جمع ہو گیا تو میں ہزار کا جمع ہونا کیا مشکل ہے۔الفضل 29 جنوری 1920 ء ) اخبار تنظیم امرتسر نے اپنے ایشوع مورخہ 20 دسمبر 1926ء میں لکھا:۔د تعمیر مسجد کی تحریک 6 جنوری 1920ء میں امیر جماعت احمدیہ نے کی۔اس سے زیادہ مستعدی اس سے زیادہ ایثار اور اس سے زیادہ مع واطاعت کا اسوہ حسنہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ 10 جون تک ساڑھے اٹھہتر ہزار روپیہ نقد اس کارخیر میں جمع ہو گیا تھا۔کیا یہ واقعہ نظم وضبط امت اور ایثار و فدائیت کی حیرت انگیز مثال نہیں“۔چنانچہ 1920ء میں مسجد فضل لندن کے لئے زمین خرید لی گئی۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے پہلے سفر یورپ میں 19 اکتوبر 1924ء کو اس کا سنگ بنیا درکھا اور سر شیخ عبدالقادر صاحب نے 3 را کتوبر 1926ء کو اس کا افتتاح فرمایا۔مسجد برلن: تاثرات قادیان بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 ص 253) حضرت خلیفہ المسح الثانی ایک عرصہ سے جرمنی میں تعمیر مسجد کے لئے جدوجہد فرمار ہے تھے۔آخر