خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 133
133 وہ حقیقی زندگی حاصل کر جائے گا اور ہم بھی حقیقی زندگی پالیں گے وہ دن ہو گا جب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو زندگی ملے گی“۔( الفضل 20 مئی 1944ء) سندھیوں میں حلقہ تبلیغ وسیع کرنے کی تحریک حضرت مصلح موعودؓ نے 2 مارچ 1951ء کو ناصر آباد سندھ کے مقام پر ایک اہم خطبہ ارشاد فرمایا جس میں احمدی جماعتوں کو تحریک فرمائی کہ وہ صوبہ کے اصل باشندوں یعنی سندھیوں میں حلقہ تبلیغ کو وسیع کریں۔چنانچہ فرمایا:۔جب تک تم سندھیوں میں احمدیت کی تبلیغ نہیں کرتے یا جب تک تم ان کے ساتھ اس طرح مل جل نہیں جاتے کہ تمہارا تمدن بھی سندھی ہو جائے تمہارے کپڑے بھی سندھیوں جیسے ہو جائیں۔تمہاری زبانیں بھی سندھی ہو جا ئیں اس وقت تک تمہاری حیثیت محض ایک غیر ملکی کی رہے گی۔یہ کتنی واضح چیز ہے جو نظر آرہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کتنے آدمی ہیں جنہوں نے اس حقیقت پر کبھی غور کیا ہے۔اس وقت بیرونی جماعتوں میں سے سوڈیڑھ سو آدمی یہاں آیا ہوا ہے اور ہم خوش ہیں کہ جماعت میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں کہ ایک جنگل میں اتنے آدمی اکٹھے ہو گئے ہیں لیکن اگر ہم غور سے کام لیں تو یہ زندگی کے آثار ہیں کہ جس ملک میں ہم بیٹھے ہیں اسی ملک کے باشندے ہمارے اندر موجود نہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ہم انگلستان میں ایک بہت بڑا جلسہ کریں اور اس میں پاکستان کے پاکستانی، افریقہ کے حبشی، انڈونیشیا کے انڈونیشین ، سیلون کے سیلونی، برما کے برمی ، افغانستان کے افغان اور عرب ممالک کے عرب سب موجود ہوں لیکن انگلستان کا کوئی آدمی نہ ہو اور ہم بڑے خوش ہوں کہ ہمارا جلسہ نہایت کامیاب ہوا ہے۔سوال یہ ہے کہ وہ جلسہ کیا کامیاب رہا جس میں اور ممالک کے لوگ تو موجود تھے اور انگلستان کا کوئی آدمی موجود نہ تھا۔اس طرح تو ہم نے اپنے روپیہ کو ضائع ہی کیا کیونکہ جس ملک کے لوگوں پر ہم اپنا اثر پیدا کرنا چاہتے تھے اس ملک کا کوئی فرد اس میں موجود نہیں تھا۔اس طرح ہم جب سندھ میں آئے تو سندھ کے لوگوں کی خاطر آئے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم سندھیوں میں اپنی تبلیغ کے حلقہ کو وسیع کریں اور ان کو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل کریں۔غرض اگر غور سے کام لیا جائے اور سوچنے کی عادت ڈالی جائے تو یہ چیز ہمارے سامنے آجاتی ہے اور