خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 122
122 ہر دن اور ہر رات ہمیں موت کے قریب کرتی جارہی ہے اور صحابیوں کے بعد جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا یہ کام تابعین کے ہاتھ میں اور پھر اُن کے بعد تبع تابعین کے ہاتھوں میں جائے گا۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ آئندہ احمدی ہونے والے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہیں دیکھا وہ یہ تو کہہ سکیں کہ ہم نے آپ کے دیکھنے والوں کو دیکھا یا یہ کہ آپ کے دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔پس جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا اُن کی زندگیاں بہت قیمتی ہیں اور جتنا کام وہ کر سکتے ہیں دوسرے نہیں کر سکتے۔اس لئے اُن کو کوشش کرنی چاہئے کہ مرنے سے قبل احمدیت کو مضبوط کر دیں تا دنیا کو معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے صحابہ نے ایسی محنت سے کام کیا کہ احمدیت کو دنیا میں پھیلا کر مرے“۔الفضل 4 جنوری 1941 ء ) اخبارات اور خطوط کے ذریعے تبلیغی مہم حضرت خلیفہ لمسیح الثانی کو دوسری جنگ عظیم کے دوران اس طرف توجہ ہوئی کہ اب تک جماعت احمد یہ انفرادی رنگ میں تبلیغ کرتی رہی ہے۔اب اسے اجتماعی تبلیغ کا رنگ اختیار کرنا چاہئے اور جنگ کے خاتمے سے پہلے ہندوستان میں اشاعت دین کے لئے پورا زور لگا دیا جائے اور جونہی جنگ ختم ہو اور بیرونی راستے کھلیں تو غیر ممالک پر روحانی حملہ کر دیا جائے تا دنیا میں جو خلا پیدا ہو وہ احمدیت کے ذریعے بآسانی پورا کیا جاسکے۔چنانچہ حضور نے فرمایا :۔گو ہندوستان سے باہر مبلغ نہیں بھیجے جاسکتے مگر جنگ کے بعد بہت ضرورت ہوگی۔فی الحال ہمیں ہندوستان میں ہی تبلیغ کے کام کو بڑھانا چاہئے اور باہر کا جو رستہ بند ہو چکا ہے اس کا کفارہ یہاں ادا کرنا ضروری ہے پس کیوں نہ ہم یہاں اتنازور لگائیں کہ جماعت میں ترقی کی رفتار سوائی یا ڈیوڑھی ہو جائے اور دو تین سال میں ہی جماعت دوگنی ہو جائے۔جب تک ترقی کی یہ رفتار نہ ہو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ہمارے سامنے بہت بڑا کام ہے، پونے دو ارب مخلوق ہے جس سے ہم نے صداقت کو منوانا ہے اور جب تک باہر کے راستے بند ہیں ہندوستان میں ہی کیوں نہ کوشش زیادہ کی جائے“۔(انوار العلوم جلد 16 ص 286)