خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 112
112 نئے مقامات پر مبلغین کی تقرری کی تحریک حضرت مصلح موعودؓ نے ملک میں تبلیغ کا دائرہ وسیع تر کرنے کے لئے 4 دسمبر 1929 ء کو ہدایت فرمائی کہ مبلغین خاص طور پر ان مقامات پر بھجوائے جائیں جہاں ابھی تک کوئی جماعت قائم نہیں ہوئی چنانچہ فرمایا۔ہماری تبلیغ میں ایک روک ہے۔عام طور پر ہمارے مبلغین انہی مقامات پر جاتے ہیں جہاں پہلے ہی جماعتیں موجود ہیں میں نے سوچا ہے ہر مبلغ کے لئے ایسے مقامات کے دورے لازمی کر دیے جائیں جہاں پہلے کوئی احمدی نہیں۔تا نئی جماعتیں قائم ہوں جس جگہ پہلے ہی کچھ احمدی ہوتے ہیں وہاں پھر جماعت ترقی نہیں کرتی۔کیونکہ لوگوں میں ضد پیدا ہو جاتی ہے لیکن اگر مبلغین کو نئے مقامات پر بھیجا جائے تو ہر ایک کے لئے ماہ ڈیڑھ ماہ میں پانچ سات نئے آدمی جماعت میں داخل کرنا کچھ مشکل نہیں۔۔۔اور اس طرح پہلی جماعتوں میں بھی از سرنو جوش پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ جب ان کے قرب و جوار میں نئی جماعتیں قائم ہو جائیں تو وہ بھی زیادہ جوش اور سرگرمی سے کام کریں گے۔الفضل 17 دسمبر 1929 ء ص 6 ) تبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے خطبہ جمعہ 6 فروری 1931ء میں فرمایا :۔میں نے پچھلے سال یہ اعلان کیا تھا کہ جو اضلاع یا جو تحصیلیں ایک ہزار نئے احمدی جماعت میں داخل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ان کے علاقہ میں ایک مستقل مبلغ رکھنے کا انتظام ہم کر دیں گے لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے اعلان ایسے موقع پر ہوا جب وقت بہت کم تھا اس لئے دوبارہ اس سال کے شروع میں میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر کوئی تحصیل ایک سال میں ایک ہزار نئے احمدی پیدا کرے تو اس کے لئے اگر کوئی سارا ضلع اتنی تعداد پوری کرے تو اس کے لئے ہم ایک مستقل مبلغ دے دیں گے۔(خطبات محمود جلد 13 ص41) چالیس سالہ جو بلی: سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اکتوبر نومبر 1890ء میں مقام مسیحیت کا انکشاف ہوا