خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 88
88 88 علاوہ خود سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بھی تعلیم دیتے تھے۔چنانچہ حضور نے مجلس مشاورت (منعقدہ 7, 8, 9 اپریل 1944ء) میں بتایا کہ میں دیہاتی مبلغین کو آجکل تعلیم دے رہا ہوں۔یہ لوگ مدرس بھی ہوں گے اور مبلغ بھی۔چھ مہینہ تک یہ لوگ فارغ ہو جائیں گے۔پندرہ ہیں ان کی تعداد ہے۔ٹرینگ کا دور ختم ہوا تو ان میں سے چودہ کو فروری 1945ء سے پنجاب کے مختلف دیہاتی علاقوں میں متعین کر دیا گیا۔دیہاتی مبلغین کے وقف کی یہ سکیم بہت کامیاب رہی اور حضور نے دیہاتی مبلغین کی نسبت اظہار خوشنودی کرتے ہوئے 17 جنوری 1947ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا یہ تجربہ بہت کامیاب رہا ہے۔کئی جماعتیں ایسی تھیں جو کہ چندوں میں ست تھیں اب ان میں بیداری پیدا ہوگئی۔پہلے سال صرف پندرہ آدمی اس کلاس میں شامل ہوئے تھے اور پچھلے سال پچاس شامل ہوئے“۔الفضل 30 جنوری 1947ءص4) دیہاتی مبلغین کی تیسری کلاس 1947ء میں کھولی گئی جس میں 53 واقفین داخل کئے گئے۔ابھی پڑھائی کا گویا آغاز ہی تھا کہ ملک فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر طلباء قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے رہ گئے اور صرف چھ پاکستان آئے جنہیں تکمیل تعلیم کے بعد تبلیغ پر لگادیا گیا۔رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ پاکستان 48-1947 ء ص 6) خاندان مسیح موعود کو وقف کی تحریک حضور نے دعوی مصلح موعود کے بعد 10 مارچ 1944 ء کے خطبہ جمعہ میں خاندان حضرت اقدس مسیح موعود کو وقف کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: ”دیکھو ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کے اس قدر احسانات ہیں کہ اگر سجدوں میں ہمارے ناک گھس جائیں، ہمارے ہاتھوں کی ہڈیاں گھس جائیں تب بھی ہم اس کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری موعود کی نسل میں ہمیں پیدا کیا ہے اور اس فخر کے لئے اس نے اپنے فضل سے ہمیں چن لیا ہے۔پس ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔دنیا کے لوگوں کے لئے دنیا کے اور