تحریک وقف نو — Page 60
111 110 ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے رات گئے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار آپ نے یقینا" بڑی وسیع نظر سے اور گہری نظر سے اپنے ماضی کا مطالعہ کیا ہوگا تب جا کر اس شعر کا مضمون آپ کے دل سے ہویدا ہوا ہے ظاہر ہوا ہے آپ نے غور کیا ہوگا بچپن میں دودھ پینے کے زمانے تک بھی جہاں تک یادداشت جاتی ہو کہ ابتداء ہی سے خدا کا پیار دل میں تھا خدا کا تعلق دل میں تھا ہر بات میں خدا حفاظت فرما رہا تھا ہر قدم پر اللہ تعالی راہنمائی فرما رہا تھا اور جس طرح ایک طفل شیر خوار ماں کی گود میں ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عرض کرتے ہیں کہ اے خدا میں تو ہمیشہ تیری گود میں رہا پس ان بچوں کو خدا کی گود میں دے دیں۔کیونکہ ذمے داریاں بہت بڑھی ہیں اور کام بہت زیادہ ہیں ہماری تعداد کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی ان قوموں کی تعداد کے مقابل پر جن کو ہم نے اسلام کے لئے فتح کرتا ہے ہماری عقلیں ہمارے علوم ہماری دنیاوی طاقتیں ان قوموں کی عقلوں اور علوم اور دنیاوی طاقتوں کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں جن کو ہم نے خدا کے لئے فتح کرتا ہے پیس ایک ہی راہ ہے اور صرف ایک راہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو اور اپنے واقفین کے وجود کو خدا کے سپرد کر دیں اور خدا کے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں امر واقعہ یہ ہے کہ کوئی چیز خواہ کیسی بھی کمزور کیوں نہ ہو اگر وہ طاقتور کے ہاتھ میں ہو تو حیرت انگیز کام دکھاتی ہے کوئی چیز کیسی ہی بے عقل کیوں نہ ہو اگر صاحب فہم و عقل کے ہاتھ میں ہو تو اس سے عظیم الشان کام لیئے جا سکتے ہیں ہم تو محض مہرے ہیں اور اس حیثیت کو ہمیشہ کجھنا اور ہمیشہ پیش نظر رکھنا احمدی کے لیے ضروری ہے آپ نے دیکھا نہیں شطرنج کھیلنے والے ان مہروں سے کھیلتے ہیں جن میں اتنی بھی طاقت نہیں ہوتی کہ ایک گھر سے اٹھکر دوسرے گھر تک جا سکیں عقل کا کیا سوال شعور کا ادنیٰ احساس بھی موجود نہیں ہوتا کہ وہ یہ معلوم کریں کہ کس گھر میں جانا ہماری بقاء کے لیے ضروری ہے اور کس گھر میں جانا شکست کا اعلان ہوگا بے جان بے طاقت مرے جو مل بھی نہیں سکتے سوچ بھی نہیں سکتے اور ایک صاحب قسم اچھا شاطر شطرنج کا ماہر ان کو اس طرح چلاتا ہے کہ بڑے سے بڑے عقل والوں کو بھی شکست دے دیتا ہے اور شکست اور فتح کا فیصلہ ان بے جان مہروں کی بساط پر ہو رہا ہوتا ہے جو نہ طاقت رکھتے ہیں نہ عقل رکھتے ہیں پیس خدا کے عظیم کام بھی اسی طرح چلتے ہیں ہم ان بے جان مہروں کی طرح ہیں ہمارے سامنے بھی کچھ مرے ہیں لیکن ان مہروں کی طاقت شیطان کے ہاتھ میں ہے بے خدا اس کے ہاتھ میں ہے اور کچھ مرے ایسے بھی ہیں جو خود خدا سمجھ رہے ہیں اپنے آپ کو اور خود چلتے ہیں اور خود سوچنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں اس کے مقابل پر ہم وہ بے جان مرے ہیں جن میں نہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی دماغ ہے مگر ہم اپنے خدا کے ہاتھ میں ہیں یہ احساس انکساری جو کچا ہے جس میں کوئی ایسی بات نہیں جو انکساری کی خاطر گرا کر پیش کی گئی ہو امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے مقابل پر ہماری حیثیت اس سے زیادہ نہیں ہے ہاں خدا اگر چاہے اور وہ ہم سے کام لیتا شروع کرے اور ہم اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیں تو یہ شطرنج کی بازی یقین " اسلام کے حق میں جیتی جائیگی کوئی دنیا کی طاقت اس بازی کو الٹا نہیں سکتی اسلام کے خلاف اس پہلو سے ان بچوں کی تیاری کی ضرورت ہے ان کو خدا کے سپرد کریں اور جہاں تک تحریک جدید کا ان پر نظر رکھنے کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا ان کو میں نے ہدایات دی ہیں وہ تیاری بھی کر رہے ہیں